Showing posts with label سلمیٰ حجاب. Show all posts
Showing posts with label سلمیٰ حجاب. Show all posts

Monday, 3 January 2022

زندگی روٹھی تو پھر ہم سے منائی نہ گئی

 زندگی روٹھی تو پھر ہم سے منائی نہ گئی

جب اندھیرا ہوا اک شمع جلائی نہ گئی

جیسے ٹھہرے ہوئے پانی پہ مکاں ہو اپنا

یاد رفتہ ہے عجب آئی تو آئی نہ گئی

میں فلک چھو لوں تو قدموں سے زمیں جاتی ہے

اک نئی دنیا خلاؤں میں بسائی نہ گئی

Friday, 31 December 2021

ایک سرگوشی میں اپنی بات کہہ جاتا ہے کون

 ایک سرگوشی میں اپنی بات کہہ جاتا ہے کون

پاس جب کوئی نہیں تو پاس آ جاتا ہے کون

ایک ویراں شہر کو آباد کر جاتا ہے کون

اک دل ناشاد کو یوں شاد کر جاتا ہے کون

تنگ کر دیتی ہے حسرت آرزوؤں کا حصار

اس حصار آرزو میں پھر سما جاتا ہے کون

Tuesday, 21 December 2021

رواں ہے وقت روانی میں آب جیسا ہے

 رواں ہے وقت روانی میں آب جیسا ہے

ٹھہر نہ پایا کہیں بھی حباب جیسا ہے

سکونِ قلب کی مانگیں دعا تو کیوں مانگیں

سکونِ قلب اگر اضطراب جیسا ہے

لہو کا رنگ بہاروں میں ڈھل گیا جب سے

ہر ایک داغ جگر کا گلاب جیسا ہے

Sunday, 19 December 2021

ساتھ جاتی ہیں نگاہیں وہ جدھر جاتے ہیں

 ساتھ جاتی ہیں نگاہیں وہ جدھر جاتے ہیں

یوں بھی لمحات جدائی کے گزر جاتے ہیں

ان کو موسم کے تغیر نے ٹھہرنے نہ دیا

اور ہم پوچھ نہ پائے کہ کدھر جاتے ہیں

حسن کو آئینہ کہہ دیتے ہیں کچھ لوگ مگر

آئینہ سامنے رکھ دو تو بگڑ جاتے ہیں

Saturday, 18 December 2021

گردش دوراں بتا کیوں تجھ کو حیرانی نہیں

 گردشِ دوراں! بتا کیوں تجھ کو حیرانی نہیں

وقت گزرا جا رہا ہے پھر بھی وہ فانی نہیں

جذب ہو کر رہ گیا ہے ایک دریا ریت میں

لاکھ طوفاں ہیں وہیں پر اب جہاں پانی نہیں

راستے بھٹکے ہوئے ہیں منزلیں گمراہ ہیں

اب ہجومِ کارواں کو خوفِ ناکامی نہیں

Friday, 17 December 2021

کبھی تیرے خط کو جلا دیا کبھی نام لکھ کے مٹا دیا

 کبھی تیرے خط کو جلا دیا کبھی نام لکھ کے مٹا دیا

یہ مِری انا کا سوال تھا، تجھے یاد کر کے بُھلا دیا

نیا آرزو کا مزاج ہے، نئے دور کی ہیں رفاقتیں

تِری قُربتوں کا جو زخم تھا تِری دوریوں نے مٹا دیا

مجھے ہے خبر تجھے عشق تھا فقط اپنے عکس جمال سے

کہ میں گم ہوں تیرے وجود میں مجھے آئینہ سا بنا دیا