زندگی روٹھی تو پھر ہم سے منائی نہ گئی
جب اندھیرا ہوا اک شمع جلائی نہ گئی
جیسے ٹھہرے ہوئے پانی پہ مکاں ہو اپنا
یاد رفتہ ہے عجب آئی تو آئی نہ گئی
میں فلک چھو لوں تو قدموں سے زمیں جاتی ہے
اک نئی دنیا خلاؤں میں بسائی نہ گئی
زندگی روٹھی تو پھر ہم سے منائی نہ گئی
جب اندھیرا ہوا اک شمع جلائی نہ گئی
جیسے ٹھہرے ہوئے پانی پہ مکاں ہو اپنا
یاد رفتہ ہے عجب آئی تو آئی نہ گئی
میں فلک چھو لوں تو قدموں سے زمیں جاتی ہے
اک نئی دنیا خلاؤں میں بسائی نہ گئی
ایک سرگوشی میں اپنی بات کہہ جاتا ہے کون
پاس جب کوئی نہیں تو پاس آ جاتا ہے کون
ایک ویراں شہر کو آباد کر جاتا ہے کون
اک دل ناشاد کو یوں شاد کر جاتا ہے کون
تنگ کر دیتی ہے حسرت آرزوؤں کا حصار
اس حصار آرزو میں پھر سما جاتا ہے کون
رواں ہے وقت روانی میں آب جیسا ہے
ٹھہر نہ پایا کہیں بھی حباب جیسا ہے
سکونِ قلب کی مانگیں دعا تو کیوں مانگیں
سکونِ قلب اگر اضطراب جیسا ہے
لہو کا رنگ بہاروں میں ڈھل گیا جب سے
ہر ایک داغ جگر کا گلاب جیسا ہے
ساتھ جاتی ہیں نگاہیں وہ جدھر جاتے ہیں
یوں بھی لمحات جدائی کے گزر جاتے ہیں
ان کو موسم کے تغیر نے ٹھہرنے نہ دیا
اور ہم پوچھ نہ پائے کہ کدھر جاتے ہیں
حسن کو آئینہ کہہ دیتے ہیں کچھ لوگ مگر
آئینہ سامنے رکھ دو تو بگڑ جاتے ہیں
گردشِ دوراں! بتا کیوں تجھ کو حیرانی نہیں
وقت گزرا جا رہا ہے پھر بھی وہ فانی نہیں
جذب ہو کر رہ گیا ہے ایک دریا ریت میں
لاکھ طوفاں ہیں وہیں پر اب جہاں پانی نہیں
راستے بھٹکے ہوئے ہیں منزلیں گمراہ ہیں
اب ہجومِ کارواں کو خوفِ ناکامی نہیں
کبھی تیرے خط کو جلا دیا کبھی نام لکھ کے مٹا دیا
یہ مِری انا کا سوال تھا، تجھے یاد کر کے بُھلا دیا
نیا آرزو کا مزاج ہے، نئے دور کی ہیں رفاقتیں
تِری قُربتوں کا جو زخم تھا تِری دوریوں نے مٹا دیا
مجھے ہے خبر تجھے عشق تھا فقط اپنے عکس جمال سے
کہ میں گم ہوں تیرے وجود میں مجھے آئینہ سا بنا دیا