رواں ہے وقت روانی میں آب جیسا ہے
ٹھہر نہ پایا کہیں بھی حباب جیسا ہے
سکونِ قلب کی مانگیں دعا تو کیوں مانگیں
سکونِ قلب اگر اضطراب جیسا ہے
لہو کا رنگ بہاروں میں ڈھل گیا جب سے
ہر ایک داغ جگر کا گلاب جیسا ہے
ہر ایک قلب صحیفہ ہے احترام کرو
ہر ایک چہرے کو پڑھ لو کتاب جیسا ہے
روایتوں پہ محبت کی اب یقین نہیں
محبتوں کا نظارہ سراب جیسا ہے
اُلجھ رہا ہے حقیقت سے روز جو سلمیٰ
اسے خبر نہیں وہ خود بھی خواب جیسا ہے
سلمیٰ حجاب
No comments:
Post a Comment