Tuesday, 21 December 2021

رواں ہے وقت روانی میں آب جیسا ہے

 رواں ہے وقت روانی میں آب جیسا ہے

ٹھہر نہ پایا کہیں بھی حباب جیسا ہے

سکونِ قلب کی مانگیں دعا تو کیوں مانگیں

سکونِ قلب اگر اضطراب جیسا ہے

لہو کا رنگ بہاروں میں ڈھل گیا جب سے

ہر ایک داغ جگر کا گلاب جیسا ہے

ہر ایک قلب صحیفہ ہے احترام کرو

ہر ایک چہرے کو پڑھ لو کتاب جیسا ہے

روایتوں پہ محبت کی اب یقین نہیں

محبتوں کا نظارہ سراب جیسا ہے

اُلجھ رہا ہے حقیقت سے روز جو سلمیٰ

اسے خبر نہیں وہ خود بھی خواب جیسا ہے


سلمیٰ حجاب

No comments:

Post a Comment