آج حکومت فوت ہوئی ہے
شہر کے بیچ و بیچ سڑک پر
سرمئی رنگ کی کار کھڑی ہے
کار کے اندر لاش پڑی ہے
لاش کا سینہ چاک ہوا ہے
پھول سا لڑکا خاک ہوا ہے
آج حکومت فوت ہوئی ہے
شہر کے بیچ و بیچ سڑک پر
سرمئی رنگ کی کار کھڑی ہے
کار کے اندر لاش پڑی ہے
لاش کا سینہ چاک ہوا ہے
پھول سا لڑکا خاک ہوا ہے
اپنے دکھوں کا ہم نے تماشہ نہیں کیا
فاقے کیے مگر کبھی شکوہ نہیں کیا
بے گھر ہوئے تباہ ہوئے دربدر ہوئے
لیکن تمہارے نام کو رُسوا نہیں کیا
گو ہم چراغ وقت کو روشن نہ کر سکے
پر اپنی ذات سے تو اندھیرا نہیں کیا
غم کی دیوار کو میں زیر و زبر کر نہ سکا
اک یہی معرکہ ایسا تھا جو سر کر نہ سکا
دل وہ آزاد پرندہ ہے کہ جس کو میں نے
قید کرنا تو بہت چاہا، مگر کر نہ سکا
دور اتنی بھی نہ تھی منزل مقصود مگر
یوں پڑے پاؤں میں چھالے کہ سفر کر نہ سکا
کوئی ہے بام پر دیکھا تو جائے
اجالے کا سفر دیکھا تو جائے
چراغِ چشمِ تر دیکھا تو جائے
محبت کا اثر دیکھا تو جائے
جو بال و پر پہ نازاں ہو رہے ہیں
انہیں بے بال و پر دیکھا تو جائے
گھر میں بیٹھوں تو شناسائی بُرا مانتی ہے
باہر آ جاؤں تو تنہائی برا مانتی ہے
میری نادانی دِکھاتی ہے کرشمے جب بھی
صاحب وقت کی دانائی برا مانتی ہے
ماہ و انجم کی سواری پہ نکلتا ہوں جب
دشتِ افلاک کی پہنائی برا مانتی ہے
میں حبیب ہوں کسی اور کا مِری جانِ جاں کوئی اور ہے
سرِ داستاں کوئی اور ہے،۔ پسِ داستاں کوئی اور ہے
یہ عذابِ دربدری میاں! ہے ازل سے میرا رفیقِ جاں
میں مکین ہوں کہیں اور کا مِرا خاکداں کوئی اور ہے
یہ تو اپنا اپنا نصیب ہے کسے کتنی قوتِ پر ملی
تِرا آسماں کوئی اور ہے مِرا آسماں کوئی اور ہے