Showing posts with label طارق متین. Show all posts
Showing posts with label طارق متین. Show all posts

Saturday, 19 February 2022

آج حکومت فوت ہوئی ہے

 آج حکومت فوت ہوئی ہے


شہر کے بیچ و بیچ سڑک پر

سرمئی رنگ کی کار کھڑی ہے

کار کے اندر لاش پڑی ہے

لاش کا سینہ چاک ہوا ہے

پھول سا لڑکا خاک ہوا ہے

Wednesday, 31 March 2021

اپنے دکھوں کا ہم نے تماشہ نہیں کیا

 اپنے دکھوں کا ہم نے تماشہ نہیں کیا

فاقے کیے مگر کبھی شکوہ نہیں کیا

بے گھر ہوئے تباہ ہوئے دربدر ہوئے

لیکن تمہارے نام کو رُسوا نہیں کیا

گو ہم چراغ وقت کو روشن نہ کر سکے

پر اپنی ذات سے تو اندھیرا نہیں کیا

Wednesday, 24 March 2021

غم کی دیوار کو میں زیر و زبر کر نہ سکا

 غم کی دیوار کو میں زیر و زبر کر نہ سکا

اک یہی معرکہ ایسا تھا جو سر کر نہ سکا

دل وہ آزاد پرندہ ہے کہ جس کو میں نے

قید کرنا تو بہت چاہا، مگر کر نہ سکا

دور اتنی بھی نہ تھی منزل مقصود مگر

یوں پڑے پاؤں میں چھالے کہ سفر کر نہ سکا

کوئی ہے بام پر دیکھا تو جائے

 کوئی ہے بام پر دیکھا تو جائے

اجالے کا سفر دیکھا تو جائے

چراغِ چشمِ تر دیکھا تو جائے

محبت کا اثر دیکھا تو جائے

جو بال و پر پہ نازاں ہو رہے ہیں

انہیں بے بال و پر دیکھا تو جائے

Tuesday, 23 March 2021

گھر میں بیٹھوں تو شناسائی برا مانتی ہے

 گھر میں بیٹھوں تو شناسائی بُرا مانتی ہے

باہر آ جاؤں تو تنہائی برا مانتی ہے

میری نادانی دِکھاتی ہے کرشمے جب بھی

صاحب وقت کی دانائی برا مانتی ہے

ماہ و انجم کی سواری پہ نکلتا ہوں جب

دشتِ افلاک کی پہنائی برا مانتی ہے

میں حبیب ہوں کسی اور کا مری جان جاں کوئی اور ہے

 میں حبیب ہوں کسی اور کا مِری جانِ جاں کوئی اور ہے

سرِ داستاں کوئی اور ہے،۔ پسِ داستاں کوئی اور ہے

یہ عذابِ دربدری میاں! ہے ازل سے میرا رفیقِ جاں

میں مکین ہوں کہیں اور کا مِرا خاکداں کوئی اور ہے

یہ تو اپنا اپنا نصیب ہے کسے کتنی قوتِ پر ملی

تِرا آسماں کوئی اور ہے مِرا آسماں کوئی اور ہے