Wednesday, 24 March 2021

کوئی ہے بام پر دیکھا تو جائے

 کوئی ہے بام پر دیکھا تو جائے

اجالے کا سفر دیکھا تو جائے

چراغِ چشمِ تر دیکھا تو جائے

محبت کا اثر دیکھا تو جائے

جو بال و پر پہ نازاں ہو رہے ہیں

انہیں بے بال و پر دیکھا تو جائے

یہ نقشہ مُسترد تو ہو چکا ہے

مگر بارِ دِگر دیکھا تو جائے

غموں کی دُھوپ میں لب پر تبسم

یہ جینے کا ہُنر دیکھا تو جائے

ہوائے تُند برگِ بے شجر کو

اُڑاتی ہے کِدھر دیکھا تو جائے

ہماری حوصلہ مندی کو طارق

میانِ خیر و شر دیکھا تو جائے


طارق متین

No comments:

Post a Comment