ضد پہ ہے دنیا تو ضد پہ تیرا دیوانہ بھی ہے
پاؤں میں زنجیر بھی تیری طرف جانا بھی ہے
ٹوٹ کر دل نے ہمارے کل تجھے چاہا بھی تھا
ٹوٹ کر دل نے ہمارے آج یہ جانا بھی ہے
میر صاحب دیکھیۓ آ کر ہمارے دور میں
اب غزل ہے آئینہ اور آئینہ خانہ بھی ہے
ضد پہ ہے دنیا تو ضد پہ تیرا دیوانہ بھی ہے
پاؤں میں زنجیر بھی تیری طرف جانا بھی ہے
ٹوٹ کر دل نے ہمارے کل تجھے چاہا بھی تھا
ٹوٹ کر دل نے ہمارے آج یہ جانا بھی ہے
میر صاحب دیکھیۓ آ کر ہمارے دور میں
اب غزل ہے آئینہ اور آئینہ خانہ بھی ہے
منزلوں کی چاہ لے کر راستوں میں قید ہیں
جتنے تھے آزاد پنچھی گھونسلوں میں قید ہیں
جو یہ کہتے تھے ہمارے پاؤں میں تل ہے جناب
آج ایسے لوگ بھی اپنے گھروں میں قید ہیں
تجھ سے پہلے تیرے جیسی شان و شوکت کے یہاں
جانے کتنے بادشہ ان مقبروں میں قید ہیں
ہمارے حال دل کی تم کو کچھ ایسے خبر ہو گی
تمہاری آستیں ہو گی، ہماری چشمِ تر ہو گی
حسیں تو اور بھی آ جائیں گے آغوش میں لیکن
کہاں یہ مرمریں باہیں، کہاں ایسی کمر ہو گی
محبت ہے کہاں جب ان سے پوچھا ہنس کے یوں بولے
یہاں ہو گی، وہاں ہو گی، ادھر ہو گی، ادھر ہو گی
روز پوچھے ہے مِرے دل کا بیاباں مجھ سے
جانے کیوں روٹھ گیا جانِ بہاراں مجھ سے
موت اس وقت مسیحا کی طرح لگتی ہے
زندگی ہوتی ہے جب دست و گریباں مجھ سے
مرتے دم بھی نہ ہوئی ہائے میسر خلوت
ملنے آئے ہیں وہ ہمراہ رقیباں مجھ سے
گھڑیاں عجیب ہوتی ہیں کچھ انتظار کی
حالت نہ پوچھیے گا دلِ بے قرار کی
آنکھیں ہر ایک شخص کی رونے لگیں لہو
موسم نے رخصتی جو سنائی بہار کی
پتھر بھی مجھ کو راہ کے پہچاننے لگے
کچھ ایسے خاک چھانی ہے اس کے دیار کی