Showing posts with label بلال سہارنپوری. Show all posts
Showing posts with label بلال سہارنپوری. Show all posts

Wednesday, 23 February 2022

ضد پہ ہے دنیا تو ضد پہ تیرا دیوانہ بھی ہے

ضد پہ ہے دنیا تو ضد پہ تیرا دیوانہ بھی ہے

پاؤں میں زنجیر بھی تیری طرف جانا بھی ہے

ٹوٹ کر دل نے ہمارے کل تجھے چاہا بھی تھا

ٹوٹ کر دل نے ہمارے آج یہ جانا بھی ہے

میر صاحب دیکھیۓ آ کر ہمارے دور میں

اب غزل ہے آئینہ اور آئینہ خانہ بھی ہے

Wednesday, 12 January 2022

منزلوں کی چاہ لے کر راستوں میں قید ہیں

 منزلوں کی چاہ لے کر راستوں میں قید ہیں

جتنے تھے آزاد پنچھی گھونسلوں میں قید ہیں

جو یہ کہتے تھے ہمارے پاؤں میں تل ہے جناب

آج ایسے لوگ بھی اپنے گھروں میں قید ہیں

تجھ سے پہلے تیرے جیسی شان و شوکت کے یہاں

جانے کتنے بادشہ ان مقبروں میں قید ہیں

Monday, 27 December 2021

ہمارے حال دل کی تم کو کچھ ایسے خبر ہو گی

 ہمارے حال دل کی تم کو کچھ ایسے خبر ہو گی

تمہاری آستیں ہو گی، ہماری چشمِ تر ہو گی

حسیں تو اور بھی آ جائیں گے آغوش میں لیکن

کہاں یہ مرمریں باہیں، کہاں ایسی کمر ہو گی

محبت ہے کہاں جب ان سے پوچھا ہنس کے یوں بولے

یہاں ہو گی، وہاں ہو گی، ادھر ہو گی، ادھر ہو گی

Sunday, 26 December 2021

روز پوچھے ہے مرے دل کا بیاباں مجھ سے

 روز پوچھے ہے مِرے دل کا بیاباں مجھ سے

جانے کیوں روٹھ گیا جانِ بہاراں مجھ سے

موت اس وقت مسیحا کی طرح لگتی ہے

زندگی ہوتی ہے جب دست و گریباں مجھ سے

مرتے دم بھی نہ ہوئی ہائے میسر خلوت

ملنے آئے ہیں وہ ہمراہ رقیباں مجھ سے

Friday, 20 August 2021

گھڑیاں عجیب ہوتی ہیں کچھ انتظار کی

 گھڑیاں عجیب ہوتی ہیں کچھ انتظار کی

حالت نہ پوچھیے گا دلِ بے قرار کی

آنکھیں ہر ایک شخص کی رونے لگیں لہو

موسم نے رخصتی جو سنائی بہار کی

پتھر بھی مجھ کو راہ کے پہچاننے لگے 

کچھ ایسے خاک چھانی ہے اس کے دیار کی