Showing posts with label اختر چیمہ. Show all posts
Showing posts with label اختر چیمہ. Show all posts

Friday, 4 March 2022

خدائے بحر و بر ابر کرم کی انتہا کر دے

عارفانہ کلام حمدیہ کلام


خدائے بحر و بر ابر کرم کی انتہا کر دے

خزاں دیدہ گلستانِ تمنا کو ہرا کر دے

لیے پھرتی ہے کب سے گردشِ شام و سحر ہم کو

تا کہ رحمتِ کونین منزل آشنا کر دے

خدائے عز و جل کُن کے خزانوں کا تُو مالک ہے

ہمارے ظرف سے بڑھ کر ہر اک نعمت عطا کر دے

Wednesday, 2 March 2022

ہمارے ساتھ جو دھوکا کریں گے

 ہمارے ساتھ جو دھوکا کریں گے

بہت پچھتائیں گے جس دن مریں گے

توکّل جن کا ہے ذاتِ خدا پر

زمانے کے ستم سے کیا ڈریں گے

بڑی سیٹوں پہ بونے آ گئے ہیں

تماشا نِت نیا کوئی کریں گے

Thursday, 24 February 2022

اسے کہنا تمہاری دلربا یادیں بہت دل کو ستاتی ہیں

 اسے کہنا

تمہاری دلربا یادیں

بہت دل کو ستاتی ہیں

بچھڑنے کا نہیں ہے غم

تمہاری یاد آنے سے

بس آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

Wednesday, 23 February 2022

میدان محبت میں سیاست نہیں کرتا

 میدانِ محبت میں سیاست نہیں کرتا

میں نذر ریا اپنی عبادت نہیں کرتا

ہو حسب و نسب جس کا حقیقت میں معزز

وہ شخص کسی سے بھی خیانت نہیں کرتا

ہم اس کو کبھی مردِ مجاہد نہیں کہتے

اربابِ ستم سے جو بغاوت نہیں کرتا

Tuesday, 22 February 2022

بے فیض ریاکار محبت پہ بھی لعنت

 بے فیض ریاکار محبت پہ بھی لعنت

اخلاص سے عاری ہو تو چاہت پہ بھی لعنت

اب لوٹ کے آنے کا تکلف نہیں کرنا

اب تُو تو کُجا تیری شباہت پہ بھی لعنت

جو اپنی رعایا کا تحفظ نہیں کرتی

واجب ہے کریں ایسی ریاست پہ بھی لعنت