عارفانہ کلام حمدیہ کلام
خدائے بحر و بر ابر کرم کی انتہا کر دے
خزاں دیدہ گلستانِ تمنا کو ہرا کر دے
لیے پھرتی ہے کب سے گردشِ شام و سحر ہم کو
تا کہ رحمتِ کونین منزل آشنا کر دے
خدائے عز و جل کُن کے خزانوں کا تُو مالک ہے
ہمارے ظرف سے بڑھ کر ہر اک نعمت عطا کر دے