Showing posts with label سہیل اختر. Show all posts
Showing posts with label سہیل اختر. Show all posts

Sunday, 26 March 2023

ہمارے جیسے ہی لوگوں سے شہر بھر گئے ہیں

 ہمارے جیسے ہی لوگوں سے شہر بھر گئے ہیں 

وہ لوگ جن کی ضرورت تھی سارے مر گئے ہیں 

گھروں سے وہ بھی صدا دے تو کون نکلے گا 

ہے دن کا وقت ابھی لوگ کام پر گئے ہیں 

کہ آ گئے ہیں تِری شور و شر کی محفل میں 

ہم اپنی اپنی خموشی سے کتنا ڈر گئے ہیں 

Sunday, 3 October 2021

ایسا وردان ملے جس کو وہ پاگل ہو جائے

 ایسا وردان ملے جس کو وہ پاگل ہو جائے

ہاتھ سونے کو لگاتا ہوں تو پیتل ہو جائے

تنہا رہنا ہے تو تنہائی مکمل ہو جائے

کیوں نہ ہر شخص تصور سے بھی اوجھل ہو جائے

مر چکا آنکھ میں امید کا پنچھی میرا

میرے ارمانوں کی دھرتی بھی نہ دلدل ہو جائے

Sunday, 26 September 2021

ستم ہر دور میں کچھ اس طرح منظر بدلتا ہے

 ستم ہر دور میں کچھ اس طرح منظر بدلتا ہے

فرازِ دار کی خاطر فقط ہر اک سر بدلتا ہے

بساطِ زیست پر اُس کو ہمیشہ مات ہوتی ہے

پیادے کی جگہ جو بادشاہ کا گھر بدلتا ہے

کسی بھی حال میں تم آئینے کو دوش مت دینا

کہ یہ تو صرف منظر کا پسِ منظر بدلتا ہے

Saturday, 25 September 2021

ضروری کب ہے کہ ہر کام اختیاری کریں

 ضروری کب ہے کہ ہر کام اختیاری کریں

اب اپنے آپ کو اتنا نہ خود پہ طاری کریں

یہ انجماد بھی ٹوٹے گا دیکھنا اک دن

ہم اعتماد سے پہلے تو خود کو جاری کریں

کوئی بھی کھیل ہو حیران اب نہیں کرتا

نہ جانے کون سے کرتب نئے مداری کریں

Friday, 24 September 2021

قدم قدم پہ جو شامل رفاقتوں میں رہا

 قدم قدم پہ جو شامل رفاقتوں میں رہا

مِرے خلاف ہی مصروف سازشوں میں رہا

گماں سے ربط جو ٹوٹا تو وحشتوں میں رہا

عجیب دل ہے ہمیشہ مسافتوں میں رہا

ہوا نے کل مِرے زخموں کو پھر جِلا بخشی

مِرا دھیان مسلسل ہی دستکوں میں رہا

Monday, 7 June 2021

تم اگر ہم سے بچھڑنے میں نہ عجلت کرتے

 تم اگر ہم سے بچھڑنے میں نہ عُجلت کرتے

ہم عبادت کی طرح تم سے محبت کرتے

میں نے پوچھا تھا فقط تم سے تغافل کا سبب

بھیگی آنکھوں سے سہی کچھ تو وضاحت کرتے

ان کو دعویٰ تھا محبت میں جنوں کاری کا

ہم سے وہ کیسے خسارے کی تجارت کرتے

Wednesday, 24 March 2021

فکر اب نہیں کوئی اشک غم بہانے کی

 فکر اب نہیں کوئی اشکِ غم بہانے کی

راس آ گئیں ہم کو گردشیں زمانے کی

بارگاہِ الفت میں چار سمت خوشبو ہے

کچھ تمہاری باتوں کی کچھ مِرے فسانے کی

پھول توڑ کر دیکھو، وہ بھی آہ بھرتا ہے

بس صدا نہیں آتی دل کے ٹوٹ جانے کی

Thursday, 19 November 2020

کھلی جب آنکھ پس دفن یوں لگا مجھ کو

 کھلی جب آنکھ پسِ دفن، یوں لگا مجھ کو

شبِ وصال نے بانہوں میں بھر لیا مجھ کو

دل و نگاہ پہ، قابو نہیں رہا مجھ کو

میں رودیا ہوں سرِ بزم کیا ہوا مجھ کو

کمالِ دستِ ستم گر ہے، یا عطا اس کی

بتوں میں شیخ نظر آئے ہے خدا مجھ کو