ہمارے جیسے ہی لوگوں سے شہر بھر گئے ہیں
وہ لوگ جن کی ضرورت تھی سارے مر گئے ہیں
گھروں سے وہ بھی صدا دے تو کون نکلے گا
ہے دن کا وقت ابھی لوگ کام پر گئے ہیں
کہ آ گئے ہیں تِری شور و شر کی محفل میں
ہم اپنی اپنی خموشی سے کتنا ڈر گئے ہیں
ہمارے جیسے ہی لوگوں سے شہر بھر گئے ہیں
وہ لوگ جن کی ضرورت تھی سارے مر گئے ہیں
گھروں سے وہ بھی صدا دے تو کون نکلے گا
ہے دن کا وقت ابھی لوگ کام پر گئے ہیں
کہ آ گئے ہیں تِری شور و شر کی محفل میں
ہم اپنی اپنی خموشی سے کتنا ڈر گئے ہیں
ایسا وردان ملے جس کو وہ پاگل ہو جائے
ہاتھ سونے کو لگاتا ہوں تو پیتل ہو جائے
تنہا رہنا ہے تو تنہائی مکمل ہو جائے
کیوں نہ ہر شخص تصور سے بھی اوجھل ہو جائے
مر چکا آنکھ میں امید کا پنچھی میرا
میرے ارمانوں کی دھرتی بھی نہ دلدل ہو جائے
ستم ہر دور میں کچھ اس طرح منظر بدلتا ہے
فرازِ دار کی خاطر فقط ہر اک سر بدلتا ہے
بساطِ زیست پر اُس کو ہمیشہ مات ہوتی ہے
پیادے کی جگہ جو بادشاہ کا گھر بدلتا ہے
کسی بھی حال میں تم آئینے کو دوش مت دینا
کہ یہ تو صرف منظر کا پسِ منظر بدلتا ہے
ضروری کب ہے کہ ہر کام اختیاری کریں
اب اپنے آپ کو اتنا نہ خود پہ طاری کریں
یہ انجماد بھی ٹوٹے گا دیکھنا اک دن
ہم اعتماد سے پہلے تو خود کو جاری کریں
کوئی بھی کھیل ہو حیران اب نہیں کرتا
نہ جانے کون سے کرتب نئے مداری کریں
قدم قدم پہ جو شامل رفاقتوں میں رہا
مِرے خلاف ہی مصروف سازشوں میں رہا
گماں سے ربط جو ٹوٹا تو وحشتوں میں رہا
عجیب دل ہے ہمیشہ مسافتوں میں رہا
ہوا نے کل مِرے زخموں کو پھر جِلا بخشی
مِرا دھیان مسلسل ہی دستکوں میں رہا
تم اگر ہم سے بچھڑنے میں نہ عُجلت کرتے
ہم عبادت کی طرح تم سے محبت کرتے
میں نے پوچھا تھا فقط تم سے تغافل کا سبب
بھیگی آنکھوں سے سہی کچھ تو وضاحت کرتے
ان کو دعویٰ تھا محبت میں جنوں کاری کا
ہم سے وہ کیسے خسارے کی تجارت کرتے
فکر اب نہیں کوئی اشکِ غم بہانے کی
راس آ گئیں ہم کو گردشیں زمانے کی
بارگاہِ الفت میں چار سمت خوشبو ہے
کچھ تمہاری باتوں کی کچھ مِرے فسانے کی
پھول توڑ کر دیکھو، وہ بھی آہ بھرتا ہے
بس صدا نہیں آتی دل کے ٹوٹ جانے کی
کھلی جب آنکھ پسِ دفن، یوں لگا مجھ کو
شبِ وصال نے بانہوں میں بھر لیا مجھ کو
دل و نگاہ پہ، قابو نہیں رہا مجھ کو
میں رودیا ہوں سرِ بزم کیا ہوا مجھ کو
کمالِ دستِ ستم گر ہے، یا عطا اس کی
بتوں میں شیخ نظر آئے ہے خدا مجھ کو