بھٹکنے میں وہاں بھی اک مزا ہے
جہاں منزل مجھے اپنی پتا ہے
سوائے ہاؤ ہو اب کیا بچا ہے؟
صدا لگتی ہے جیسے بے صدا ہے
وہ بندے بھی تُلے ہیں خود روی پر
جو یہ تسلیم کرتے ہیں؛ خدا ہے
بھٹکنے میں وہاں بھی اک مزا ہے
جہاں منزل مجھے اپنی پتا ہے
سوائے ہاؤ ہو اب کیا بچا ہے؟
صدا لگتی ہے جیسے بے صدا ہے
وہ بندے بھی تُلے ہیں خود روی پر
جو یہ تسلیم کرتے ہیں؛ خدا ہے
چہرے نئے ہیں طرزِ ادا بھی نئی رہے
کیا فائدہ کہ لاکھ سجیں ہم، کمی رہے
اب دوست چاہتے ہیں دکھانے کے واسطے
بس ہم سے راہ و رسم ہی ان کی بنی رہے
طوفان چھیڑ چھاڑ سے جب باز ہی نہیں
جرأت کہاں تلک لبِ ساحل کھڑی رہے
خوشی کو چھوڑ کے رنج و ملال لے بیٹھے
عروج دے کے انہیں ہم زوال لے بیٹھے
ابھی تو ہجر کی شب کا عذاب باقی ہے
ابھی سے لوگ امیدِ وصال لے بیٹھے
جہاں جھکائے ہیں سر لوگ مصلحت کے لیے
کہاں سے تم بھی خودی کا سوال لے بیٹھے
گھیر کر جرأت انکار تلک لے آئے
لوگ ہم کو رسن و دار تلک لے آئے
ہم کو ان پر ہی بھروسہ تھا، جو اکثر ہم کو
دے کے پھولوں کی قسم خار تلک لے آئے
دل کے امراض یہ دیکھا ہے کہ درماں کیلئے
ایک بیمار کو بیمار تلک لے آئے
عقل کے ساتھ جہاں میرا گزارہ ہی نہیں
چھوڑ کر دل کو وہاں کوئی سہارا ہی نہیں
چہرگی میری بھلا کیسے ابھرنے پائے
آئینوں کو مِری تصویر گوارہ ہی نہیں
دوستوں کی تو نگاہوں پے مناظر برسیں
میری نظروں کے لیے کوئی نظارہ ہی نہیں
مجھ کو شاہی نہیں توفیق فقیرانہ دے
رکھ مجھے بزم میں چاہے مجھے ویرانہ دے
بھر دے بھرنا ہے اگر عشق کا سودا سر میں
مجھ کو دینا ہے اگر جرأتِ رِندانہ دے
آخرش حد بھی ہے ایثار کی کوئی کہ نہیں
شمع پر جان کہاں تک کوئی پروانہ دے
مت کرئیے چھیڑ چھاڑ چمن کے اصول سے
کانٹے الگ نہ کیجئے گلشن میں پھول سے
کس درجہ تلملائی ہیں خوشیاں نہ پوچھئے
دل پر مِرے صحیفۂ غم کے نزول سے
حالت کسی بھی دور میں ایسی نہ تھی کبھی
خطرہ ہے آج علم کو جتنا جہول سے
وہ کیا ملا کہ خود کو ہی کھونا پڑا مجھے
ہنسنا تھا جس مقام پہ، رونا پڑا مجھے
صحرائے آرزو کی سُلگتی زمین کو
خود اپنے آنسوؤں سے بھگونا پڑا مجھے
سچائیاں بھی اپنی بچائے نہ رکھ سکا
جیسا نہیں تھا ویسا بھی ہونا پڑا مجھے