Showing posts with label نہال رضوی. Show all posts
Showing posts with label نہال رضوی. Show all posts

Sunday, 21 November 2021

بھٹکنے میں وہاں بھی اک مزہ ہے

 بھٹکنے میں وہاں بھی اک مزا ہے

جہاں منزل مجھے اپنی پتا ہے

سوائے ہاؤ ہو اب کیا بچا ہے؟

صدا لگتی ہے جیسے بے صدا ہے

وہ بندے بھی تُلے ہیں خود روی پر

جو یہ تسلیم کرتے ہیں؛ خدا ہے

Tuesday, 21 September 2021

چہرے نئے ہیں طرز ادا بھی نئی رہے

 چہرے نئے ہیں طرزِ ادا بھی نئی رہے

کیا فائدہ کہ لاکھ سجیں ہم، کمی رہے

اب دوست چاہتے ہیں دکھانے کے واسطے

بس ہم سے راہ و رسم ہی ان کی بنی رہے

طوفان چھیڑ چھاڑ سے جب باز ہی نہیں

جرأت کہاں تلک لبِ ساحل کھڑی رہے

Thursday, 16 September 2021

خوشی کو چھوڑ کے رنج و ملال لے بیٹھے

 خوشی کو چھوڑ کے رنج و ملال لے بیٹھے

عروج دے کے انہیں ہم زوال لے بیٹھے

ابھی تو ہجر کی شب کا عذاب باقی ہے

ابھی سے لوگ امیدِ وصال لے بیٹھے

جہاں جھکائے ہیں سر لوگ مصلحت کے لیے

کہاں سے تم بھی خودی کا سوال لے بیٹھے

Tuesday, 14 September 2021

گھیر کر جرأت انکار تلک لے آئے

 گھیر کر جرأت انکار تلک لے آئے

لوگ ہم کو رسن و دار تلک لے آئے

ہم کو ان پر ہی بھروسہ تھا، جو اکثر ہم کو

دے کے پھولوں کی قسم خار تلک لے آئے

دل کے امراض یہ دیکھا ہے کہ درماں کیلئے

ایک بیمار کو بیمار تلک لے آئے

Friday, 10 September 2021

عقل کے ساتھ جہاں میرا گزارہ ہی نہیں

 عقل کے ساتھ جہاں میرا گزارہ ہی نہیں

چھوڑ کر دل کو وہاں کوئی سہارا ہی نہیں

چہرگی میری بھلا کیسے ابھرنے پائے

آئینوں کو مِری تصویر گوارہ ہی نہیں

دوستوں کی تو نگاہوں پے مناظر برسیں

میری نظروں کے لیے کوئی نظارہ ہی نہیں

Thursday, 9 September 2021

مجھ کو شاہی نہیں توفیق فقیرانہ دے

 مجھ کو شاہی نہیں توفیق فقیرانہ دے

رکھ مجھے بزم میں چاہے مجھے ویرانہ دے

بھر دے بھرنا ہے اگر عشق کا سودا سر میں

مجھ کو دینا ہے اگر جرأتِ رِندانہ دے

آخرش حد بھی ہے ایثار کی کوئی کہ نہیں

شمع پر جان کہاں تک کوئی پروانہ دے

Friday, 3 September 2021

مت کرئیے چھیڑ چھاڑ چمن کے اصول سے

 مت کرئیے چھیڑ چھاڑ چمن کے اصول سے

کانٹے الگ نہ کیجئے گلشن میں پھول سے

کس درجہ تلملائی ہیں خوشیاں نہ پوچھئے

دل پر مِرے صحیفۂ غم کے نزول سے

حالت کسی بھی دور میں ایسی نہ تھی کبھی

خطرہ ہے آج علم کو جتنا جہول سے

Thursday, 10 June 2021

وہ کیا ملا کہ خود کو ہی کھونا پڑا مجھے

 وہ کیا ملا کہ خود کو ہی کھونا پڑا مجھے

ہنسنا تھا جس مقام پہ، رونا پڑا مجھے

صحرائے آرزو کی سُلگتی زمین کو

خود اپنے آنسوؤں سے بھگونا پڑا مجھے

سچائیاں بھی اپنی بچائے نہ رکھ سکا

جیسا نہیں تھا ویسا بھی ہونا پڑا مجھے