خوشی کو چھوڑ کے رنج و ملال لے بیٹھے
عروج دے کے انہیں ہم زوال لے بیٹھے
ابھی تو ہجر کی شب کا عذاب باقی ہے
ابھی سے لوگ امیدِ وصال لے بیٹھے
جہاں جھکائے ہیں سر لوگ مصلحت کے لیے
کہاں سے تم بھی خودی کا سوال لے بیٹھے
نہ بھیجیۓ مجھے اے دوست اس بیاباں میں
جہاں کہ شیر کی مسند شغال لے بیٹھے
شعور والوں کی نادانیاں خدا کی پناہ
بغیر ماضی لیے لوگ حال لے بیٹھے
جب ایک پل کا بھروسہ نہیں رہا تو نہال
تم آ کے گفتگوئے ماہ و سال لے بیٹھے
نہال رضوی
No comments:
Post a Comment