Showing posts with label وجے سنگھ پارگی. Show all posts
Showing posts with label وجے سنگھ پارگی. Show all posts

Saturday, 9 May 2026

اگر میں کھڑا ہوتا ہوں تو چھت سے ٹکراتا ہوں

 اگر میں کھڑا ہوتا ہوں

تو چھت سے ٹکراتا ہوں

اگر سیدھا ہوتا ہوں

تو دیوار سامنے آ جاتی ہے

کسی صورت میں نے یہاں زندگی گزاری ہے

یہیں، محدود ہو کر

Saturday, 11 October 2025

زندگی ختم ہو جائے گی

 زندگی ختم ہو جائے گی

مگر دستورِ زمانہ جاری رہے گا

روٹی کا قُطر زمین کے قطر سے

بہت بڑا ہے

اس حقیقت کو ان کے سوا

کوئی جان سکتا نہیں

Wednesday, 16 October 2024

زندہ رہتے ہوئے اکثر متزلزل ہوا ہوں

 زندہ رہتے ہوئے اکثر

متزلزل ہوا ہوں

حرکت قلب رُک گئی ہے

اور میں ڈھیر ہو گیا ہوں

مگر ہر دفعہ

میرے اندر اُٹھ کھڑا ہُوا ہے

Thursday, 10 October 2024

جھولڑی بچپن میں باپا نے مجھ کو

 جھولڑی 


بچپن میں باپا نے مجھ کو

دلائی دی تھی ایک جھولڑی

سکڑ گئی تھی وہ

جھیل نہ سکی تھی پہلی دُھلائی

اپنا رنگ کھو دیا، کھسک گئی تھی سِلائی

مجھے نفرت ہے اس سے

Sunday, 6 October 2024

مرنا ہمیں پسند نہیں

 مرنا ہمیں پسند نہیں


ایک جوتے کے قد جتنا پیٹ بھرتے

پہاڑ دھنس گئے

ندیاں سُوکھ گئیں

جنگلات پر گاؤوں کا قبضہ ہو گیا

دہاڑنے اور گریہ وزاری کے دن

اُڑ کر پہنچ گئے بادلوں میں