Saturday, 9 May 2026

اگر میں کھڑا ہوتا ہوں تو چھت سے ٹکراتا ہوں

 اگر میں کھڑا ہوتا ہوں

تو چھت سے ٹکراتا ہوں

اگر سیدھا ہوتا ہوں

تو دیوار سامنے آ جاتی ہے

کسی صورت میں نے یہاں زندگی گزاری ہے

یہیں، محدود ہو کر

جس نے مجھے زندہ رکھا

وہ میری ایک عادت تھی

شِکمِ مادر میں کروٹ لینے کی عادت


گجراتی شاعری؛ وجے سنگھ پارگی

اردو ترجمہ؛ شفیق عالم

No comments:

Post a Comment