Saturday, 9 May 2026

جینے کا مزہ ہے نہ ہے مرنے میں سکوں اب

 جینے کا مزا ہے نہ ہے مرنے میں سکوں اب

لے جائے کہاں دیکھیے صحرا کو جنوں اب

ہو جائے نہ یہ شہر بیاباں کبھی اک دن

جلوہ نہ تِرے حسن کا باقی نہ فسوں اب

شکوہ ہے غم دل کا گِلہ دہر کا تھوڑا

گزری جو شب ہجر میں کیسے نہ کہوں اب

برباد ہر اک شہر فسردہ گُل و غُنچے

کل جام تھا ہاتھوں میں مگر سر ہے نگوں اب

لے آؤں نہ میں کیوں اسے باتوں میں لگا کر

کہنا یہ برہمن کا ہے اچھا ہے شگوں اب

سنتا بھی نہیں جب کوئی ملتا بھی نہیں وہ

اب کوئی بتاؤ مجھے کیا عرض کروں اب

وارفتہ ہوا دل یہ کسی شوخ پہ جب سے

شہرہ ہے مِرا شہر میں پر کیا میں کروں اب


شفیق ندوی

No comments:

Post a Comment