Wednesday, 6 May 2026

طیبہ کی حسیں شام و سحر مانگ رہے ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


طیبہ کی حسیں شام و سحر مانگ رہے ہیں

رو رو کے دعاؤں کا اثر مانگ رہے ہیں

کچھ اور طلب کرنے کی جرأت ہی کہاں ہے

آقاﷺ سے فقط بوسۂ در مانگ رہے ہیں

ہر سال مدینے میں حضوری کی دعائیں

ہم دیکھ کے اللہ کا گھر مانگ رہے ہیں

اللہ کے محبوب سے سلطانِ اُمم سے

ہم صدقۂ صدیقؓ و عمرؓ مانگ رہے ہیں

بکھرے ہیں مدینے میں تجلی کے خزانے

ہم وسعتِ دامانِ نظر مانگ رہے ہیں

تابندگئ گنبدِ خضرا کی بدولت

ہم منصبِ معراجِ نظر مانگ رہے ہیں

اُڑ کر ہمیں جانا ہے صبا جانبِ طیبہ

اس واسطے اللہ سے پر مانگ رہے ہیں

حق جس پہ کھلیں مدحتِ سرکارؐ کے غنچے

اللہ سے وہ شاخِ شجر مانگ رہے ہیں


علامہ عبدالحق بنارسی

No comments:

Post a Comment