دل اکیلا ہی نہیں رقص میں جاں رقص میں ہے
ہم اگر رقص میں ہیں سارا جہاں رقص میں ہے
حیرتِ آئینہ تنہا نہ یہاں رقص میں ہے
جانے کیا دیکھ لیا دل نے کہ جاں رقص میں ہے
چشمِ ساقی میں ہے جس دن سے مرا شیشۂ دل
عالمِ کارگہِ شیشہ گراں رقص میں ہے
دل اکیلا ہی نہیں رقص میں جاں رقص میں ہے
ہم اگر رقص میں ہیں سارا جہاں رقص میں ہے
حیرتِ آئینہ تنہا نہ یہاں رقص میں ہے
جانے کیا دیکھ لیا دل نے کہ جاں رقص میں ہے
چشمِ ساقی میں ہے جس دن سے مرا شیشۂ دل
عالمِ کارگہِ شیشہ گراں رقص میں ہے
پھر مرحلۂ خوابِ بہاراں سے گُزر جا
موسم ہے سہانا تو گریباں سے گزر جا
شیشے کے مکاں اور نظر کے متحمل
دیوانہ نہ بن شہرِ نگاراں سے گزر جا
پھر دیں گے وہی مشورۂ ترکِ محبت
احباب نما حلقۂ یاراں سے گزر جا
یادش بخیر ہے وہی چہرہ خیال میں
سو جنتیں جوان ہیں گویا خیال میں
کس شان سے شریک تِری انجمن میں ہیں
بیٹھے ہوں جیسے ہم کہیں تنہا خیال میں
گزرا ہے عشق ہی میں یہ عالم بھی مدتوں
تھی شام ذہن میں نہ سویرا خیال میں
حسیں ہے شہر تو عجلت میں کیوں گزر جائیں
جنونِ شوق اسے بھی نہال کر جائیں
یہ اور بات کہ ہم کو نظر نہیں آئے
مگر وہ ساتھ ہی رہتا ہے ہم جدھر جائیں
حیات عشق کا مقصود بن گئی آخر
یہ آرزو کہ تِرا نام لے کے مر جائیں
جاتے ہوئے نگاہ ادھر کر کے دیکھ لو
ہم لوگ پھر کہاں ہمیں جی بھر کے دیکھ لو
دیتا ہے اب یہی دلِ شوریدہ مشورہ
جینے سے تنگ ہو تو میاں مر کے دیکھ لو
رہنے کا دشت میں بھی سلیقہ نہیں گیا
یاں بھی قرینے سارے مِرے گھر کے دیکھ لو
ڈھنگ جینے کا نہ مرنے کی ادا مانگی تھی
ہم نے تو جُرمِ محبت کی سزا مانگی تھی
کیا خبر تھی کہ اندھیروں کو بھی شرما دیں گے
جن اُجالوں کے لیے ہم نے دُعا مانگی تھی
عشق میں رازِ بقاء کیا ہے، خبر تھی ہم کو
ہم نے کچھ سوچ سمجھ کر ہی فنا مانگی تھی