Showing posts with label دل ایوبی. Show all posts
Showing posts with label دل ایوبی. Show all posts

Saturday, 15 May 2021

دل اکیلا ہی نہیں رقص میں جاں رقص میں ہے

 دل اکیلا ہی نہیں رقص میں جاں رقص میں ہے

ہم اگر رقص میں ہیں سارا جہاں رقص میں ہے

حیرتِ آئینہ تنہا نہ یہاں رقص میں ہے

جانے کیا دیکھ لیا دل نے کہ جاں رقص میں ہے

چشمِ ساقی میں ہے جس دن سے مرا شیشۂ دل

عالمِ کارگہِ شیشہ گراں رقص میں ہے

Friday, 14 May 2021

پھر مرحلۂ خواب بہاراں سے گزر جا

 پھر مرحلۂ خوابِ بہاراں سے گُزر جا

موسم ہے سہانا تو گریباں سے گزر جا

شیشے کے مکاں اور نظر کے متحمل

دیوانہ نہ بن شہرِ نگاراں سے گزر جا

پھر دیں گے وہی مشورۂ ترکِ محبت

احباب نما حلقۂ یاراں سے گزر جا

Wednesday, 12 May 2021

یادش بخیر ہے وہی چہرہ خیال میں

 یادش بخیر ہے وہی چہرہ خیال میں

سو جنتیں جوان ہیں گویا خیال میں

کس شان سے شریک تِری انجمن میں ہیں

بیٹھے ہوں جیسے ہم کہیں تنہا خیال میں

گزرا ہے عشق ہی میں یہ عالم بھی مدتوں

تھی شام ذہن میں نہ سویرا خیال میں

Tuesday, 11 May 2021

حسیں ہے شہر تو عجلت میں کیوں گزر جائیں

 حسیں ہے شہر تو عجلت میں کیوں گزر جائیں

جنونِ شوق اسے بھی نہال کر جائیں

یہ اور بات کہ ہم کو نظر نہیں آئے

مگر وہ ساتھ ہی رہتا ہے ہم جدھر جائیں

حیات عشق کا مقصود بن گئی آخر

یہ آرزو کہ تِرا نام لے کے مر جائیں

Monday, 10 May 2021

جاتے ہوئے نگاہ ادھر کر کے دیکھ لو

 جاتے ہوئے نگاہ ادھر کر کے دیکھ لو

ہم لوگ پھر کہاں ہمیں جی بھر کے دیکھ لو

دیتا ہے اب یہی دلِ شوریدہ مشورہ

جینے سے تنگ ہو تو میاں مر کے دیکھ لو

رہنے کا دشت میں بھی سلیقہ نہیں گیا

یاں بھی قرینے سارے مِرے گھر کے دیکھ لو

Thursday, 25 March 2021

ڈھنگ جینے کا نہ مرنے کی ادا مانگی تھی

 ڈھنگ جینے کا نہ مرنے کی ادا مانگی تھی

ہم نے تو جُرمِ محبت کی سزا مانگی تھی

کیا خبر تھی کہ اندھیروں کو بھی شرما دیں گے

جن اُجالوں کے لیے ہم نے دُعا مانگی تھی

عشق میں رازِ بقاء کیا ہے، خبر تھی ہم کو

ہم نے کچھ سوچ سمجھ کر ہی فنا مانگی تھی