Monday, 10 May 2021

جاتے ہوئے نگاہ ادھر کر کے دیکھ لو

 جاتے ہوئے نگاہ ادھر کر کے دیکھ لو

ہم لوگ پھر کہاں ہمیں جی بھر کے دیکھ لو

دیتا ہے اب یہی دلِ شوریدہ مشورہ

جینے سے تنگ ہو تو میاں مر کے دیکھ لو

رہنے کا دشت میں بھی سلیقہ نہیں گیا

یاں بھی قرینے سارے مِرے گھر کے دیکھ لو

شاہانِ کج کلاہ زمیں بوس ہو گئے

تیور مگر وہی ہیں مِرے سر کے دیکھ لو

سجدے میں دو جہان ہیں اے دل ہمارے ساتھ

رتبے یہ آستانِ قلندر کے دیکھ لو


دل ایوبی

No comments:

Post a Comment