نسلِ انساں میں محبت کی کمی آج بھی ہے
اور ازل سے جو ملی کم نظرِی آج بھی ہے
جھکتی ہے اس کی طرف اب بھی عیارِ انصاف
وہ کہ ہر جرم سے پہلے تھا بری آج بھی ہے
یوں تو پہلے سے نہیں اس سے مراسم پھر بھی
وہ جو ہم رشتگی پہلے تھی کبھی، آج بھی ہے
نسلِ انساں میں محبت کی کمی آج بھی ہے
اور ازل سے جو ملی کم نظرِی آج بھی ہے
جھکتی ہے اس کی طرف اب بھی عیارِ انصاف
وہ کہ ہر جرم سے پہلے تھا بری آج بھی ہے
یوں تو پہلے سے نہیں اس سے مراسم پھر بھی
وہ جو ہم رشتگی پہلے تھی کبھی، آج بھی ہے
یوں تو وہ درد آشنا بھی ہیں
پاس رہتے ہوئے جُدا بھی ہیں
جشنِ آزادگی بپا کیجے
کاسہ بردار رہنما بھی ہیں
ہے سفینہ اسیرِ موجِ بلا
یوں تو کہنے کو ناخدا بھی ہیں
دلِ مضطر کی دوا کیجئے گا
نہ ہو ممکن تو دعا کیجئے گا
بامِ اُلفت سے تو گُل ہی برسیں
تلخئ جاں نہ سوا کیجئے گا
بار جاں کو تو ذرا کم کیجئے
قرض احساں کا ادا کیجئے گا
جسے گماں تھا، جسے یقیں تھا وہ میں نہیں تھا
ابھی ابھی جو یہیں کہیں تھا وہ میں نہیں تھا
میں تیرے پیکر میں کر رہا تھا تلاش اپنی
جو تیرے دل کے بہت قریں تھا وہ میں نہیں تھا
تِرا کرم تھا کہ نعمتِ غم مجھے عطا کی
جسے گِلہ تھا دلِ حزیں تھا وہ میں نہیں تھا
دل دیوانہ کہ بھولے ہی سے گھر رہتا ہے
ذکر کیوں اس کا مگر شام و سحر رہتا ہے
سینچتے رہیے اسے خون جگر سے اکثر
بے ثمر ورنہ تمنا کا شجر رہتا ہے
بستر شب پہ تڑپتے ہی گزر جائے مگر
دستِ امید میں دامان سحر رہتا ہے
دو گھڑی کی اور مہلت ہے ذرا جلدی کرو
اتنی فُرصت بھی غنیمت ہے ذرا جلدی کرو
رُوٹھ کر جانے لگی دوشیزۂ عمرِ رواں
آخری بوسے کی چاہت ہے ذرا جلدی کرو
حشر برپا کر رہا ہے پھر جمالِ فتنہ خیز
چشم غرقِ بحرِ حیرت ہے ذرا جلدی کرو