Showing posts with label نواب حیدر. Show all posts
Showing posts with label نواب حیدر. Show all posts

Thursday, 29 December 2022

نسل انساں میں محبت کی کمی آج بھی ہے

 نسلِ انساں میں محبت کی کمی آج بھی ہے

اور ازل سے جو ملی کم نظرِی آج بھی ہے

جھکتی ہے اس کی طرف اب بھی عیارِ انصاف

وہ کہ ہر جرم سے پہلے تھا بری آج بھی ہے

یوں تو پہلے سے نہیں اس سے مراسم پھر بھی

وہ جو ہم رشتگی پہلے تھی کبھی، آج بھی ہے

Saturday, 29 May 2021

یوں تو وہ درد آشنا بھی ہیں

 یوں تو وہ درد آشنا بھی ہیں

پاس رہتے ہوئے جُدا بھی ہیں

جشنِ آزادگی بپا کیجے

کاسہ بردار رہنما بھی ہیں

ہے سفینہ اسیرِ موجِ بلا

یوں تو کہنے کو ناخدا بھی ہیں

دل مضطر کی دوا کیجئے گا

 دلِ مضطر کی دوا کیجئے گا

نہ ہو ممکن تو دعا کیجئے گا

بامِ اُلفت سے تو گُل ہی برسیں

تلخئ جاں نہ سوا کیجئے گا

بار جاں کو تو ذرا کم کیجئے

قرض احساں کا ادا کیجئے گا

Thursday, 27 May 2021

جسے گماں تھا جسے یقیں تھا وہ میں نہیں تھا

 جسے گماں تھا، جسے یقیں تھا وہ میں نہیں تھا

ابھی ابھی جو یہیں کہیں تھا وہ میں نہیں تھا

میں تیرے پیکر میں کر رہا تھا تلاش اپنی

جو تیرے دل کے بہت قریں تھا وہ میں نہیں تھا

تِرا کرم تھا کہ نعمتِ غم مجھے عطا کی

جسے گِلہ تھا دلِ حزیں تھا وہ میں نہیں تھا

Tuesday, 25 May 2021

دل دیوانہ کہ بھولے ہی سے گھر رہتا ہے

 دل دیوانہ کہ بھولے ہی سے گھر رہتا ہے

ذکر کیوں اس کا مگر شام و سحر رہتا ہے

سینچتے رہیے اسے خون جگر سے اکثر

بے ثمر ورنہ تمنا کا شجر رہتا ہے

بستر شب پہ تڑپتے ہی گزر جائے مگر

دستِ امید میں دامان سحر رہتا ہے

Monday, 24 May 2021

دو گھڑی کی اور مہلت ہے ذرا جلدی کرو

 دو گھڑی کی اور مہلت ہے ذرا جلدی کرو

اتنی فُرصت بھی غنیمت ہے ذرا جلدی کرو

رُوٹھ کر جانے لگی دوشیزۂ عمرِ رواں

آخری بوسے کی چاہت ہے ذرا جلدی کرو

حشر برپا کر رہا ہے پھر جمالِ فتنہ خیز

چشم غرقِ بحرِ حیرت ہے ذرا جلدی کرو