میں نے
دنیا کو آنکھوں سے دیکھا نہیں ہے
کتابوں میں پڑھا ہے
لفظوں میں لکھا ہے
سو اگر تم اپنی دنیا مجھے دکھانا چاہتے ہو
تو اسے تصویروں میں مت چھپانا
میں نے
دنیا کو آنکھوں سے دیکھا نہیں ہے
کتابوں میں پڑھا ہے
لفظوں میں لکھا ہے
سو اگر تم اپنی دنیا مجھے دکھانا چاہتے ہو
تو اسے تصویروں میں مت چھپانا
Something missing
میں اس کی زندگی کا
درمیان والا صفحہ ہوں
جس کے بغیر ادھوری ہو
کہانی اس کی
جس کی کمی محسوس کر کے
صنفِ نازک ہیں ہم
غصہ بھی تو آ جاتا ہے
کوئی ہنس کر منا لے تو مان جائیں
ہمارا کیا جاتا ہے
ہم موڈی، ضدی، بد لحاظ
سنو لڑکی
یہ اُلجھنوں کی گُتھی
تم زمانے کے لیے رہنے دو
تم ابھی خواب دیکھو
بال سنوارو
نظمیں پڑھا کرو
چلو آج ہاتھ سے پھسل چکے سال کے
تمام لمحے یاد کر لیتے ہیں
وہ باتیں جن پہ اختلافات بڑھنے کے ڈر سے
چپ سادھ لی تھی ہم نے
وہ سب بول دیتے ہیں
رنگ رسیا
تم چٹانوں سا مزاج رکھتے ہو
تمہیں کیا خبر
جب وہ چُنری اوڑھے ٹیلوں سے گزرتے
اپنا گھڑا کسی پیاسے کے سامنے انڈیلتی ہے
تو بادل تمنا کرتے ہیں کہ
میں انشا جی کی شاعری کی وہ اچھی لڑکی نہیں ہوں
مجھے جاننے پہچاننے کا دعویٰ ہرگز مت کرنا
میں انشا جی کی شاعری کی وہ اچھی لڑکی نہیں ہوں
کہ جس کے لانبے گیسوؤں کا چرچا ہے
نہ میں فراز کی غزل سے ملتی حسینہ ہوں
کہ جس کے بات کرنے سے پھول جھڑتے ہیں