Showing posts with label سمن دگل. Show all posts
Showing posts with label سمن دگل. Show all posts

Monday, 19 February 2024

ہو گا کسی کے حسن کا سودا یہیں کہیں

 ہو گا کسی کے حُسن کا سودا یہیں کہیں

یوسف خرید لے گی زلیخا یہیں کہیں

شاید ادھر ادھر پڑی ہوں اب بھی کرچیاں

ٹوٹا تھا آنکھوں کا کوئی سپنا یہیں کہیں

اہل جنوں کے نقش کف پا یہاں پہ ہیں

ہونا تو چاہیے کوئی صحرا یہیں کہیں

Friday, 16 February 2024

جو ترے روئے درخشاں پہ نظر رکھتے ہیں

 جو ترے روئے درخشاں پہ نظر رکھتے ہیں

وہ خیالوں میں کہاں شمس و قمر رکھتے ہیں

راستہ یہ تِری چاہت کا نکالا ہم نے

بس تِرے چاہنے والوں پہ نظر رکھتے ہیں

وہ بہت دور ہیں اس بات کا غم ہے لیکن

یہ بہت ہے وہ مِری خیر خبر رکھتے ہیں

Monday, 4 December 2023

خود میں ہی ڈوبتی ابھرتی ہوں

 خُود میں ہی ڈُوبتی اُبھرتی ہوں

جانے کس کو تلاش کرتی ہوں

دل میں جینے کی آرزو لے کر

میں کئی بار روز مرتی ہوں

بھر نہ جائے یہ زخم اے دل میرا

اس لیے چھیڑ چھاڑ کرتی ہوں

Monday, 27 November 2023

خود پہ گزرے عذاب لکھتی ہوں

 خُود پہ گُزرے عذاب لکھتی ہوں

آج کر کے حساب لکھتی ہوں

بحرِ دل میں ہے اک سنّاٹا

اور میں اِضطراب لکھتی ہوں

خود کو ذرے سے مختصر کر کے

آپ کو آفتاب لکھتی ہوں

Friday, 10 December 2021

نہ روک پائیں گئے دل کو خوشی منانے سے

 نہ روک پائیں گئے دل کو خوشی منانے سے

ہماری خاک یہاں لگ گئی ٹھکانے سے

حضور آپ کے ہسنے سے مسکرانے سے

چمن میں پھول کِھلے ہیں اسی بہانے سے

خوشی، بہار، سکون و قرار اور نیندیں

یہ ہم سے روٹھ گئے تیرے روٹھ جانے سے