ہو گا کسی کے حُسن کا سودا یہیں کہیں
یوسف خرید لے گی زلیخا یہیں کہیں
شاید ادھر ادھر پڑی ہوں اب بھی کرچیاں
ٹوٹا تھا آنکھوں کا کوئی سپنا یہیں کہیں
اہل جنوں کے نقش کف پا یہاں پہ ہیں
ہونا تو چاہیے کوئی صحرا یہیں کہیں
ہو گا کسی کے حُسن کا سودا یہیں کہیں
یوسف خرید لے گی زلیخا یہیں کہیں
شاید ادھر ادھر پڑی ہوں اب بھی کرچیاں
ٹوٹا تھا آنکھوں کا کوئی سپنا یہیں کہیں
اہل جنوں کے نقش کف پا یہاں پہ ہیں
ہونا تو چاہیے کوئی صحرا یہیں کہیں
جو ترے روئے درخشاں پہ نظر رکھتے ہیں
وہ خیالوں میں کہاں شمس و قمر رکھتے ہیں
راستہ یہ تِری چاہت کا نکالا ہم نے
بس تِرے چاہنے والوں پہ نظر رکھتے ہیں
وہ بہت دور ہیں اس بات کا غم ہے لیکن
یہ بہت ہے وہ مِری خیر خبر رکھتے ہیں
خُود میں ہی ڈُوبتی اُبھرتی ہوں
جانے کس کو تلاش کرتی ہوں
دل میں جینے کی آرزو لے کر
میں کئی بار روز مرتی ہوں
بھر نہ جائے یہ زخم اے دل میرا
اس لیے چھیڑ چھاڑ کرتی ہوں
خُود پہ گُزرے عذاب لکھتی ہوں
آج کر کے حساب لکھتی ہوں
بحرِ دل میں ہے اک سنّاٹا
اور میں اِضطراب لکھتی ہوں
خود کو ذرے سے مختصر کر کے
آپ کو آفتاب لکھتی ہوں
نہ روک پائیں گئے دل کو خوشی منانے سے
ہماری خاک یہاں لگ گئی ٹھکانے سے
حضور آپ کے ہسنے سے مسکرانے سے
چمن میں پھول کِھلے ہیں اسی بہانے سے
خوشی، بہار، سکون و قرار اور نیندیں
یہ ہم سے روٹھ گئے تیرے روٹھ جانے سے