آج مہندی لگائے بیٹھے ہیں
خوب وہ رنگ لائے بیٹھے ہیں
میرے آتے ہی ہو گئے برہم
کچھ کسی کے سکھائے بیٹھے ہیں
تیغ کھینچی ہے قتل پر میرے
ہاتھ مجھ سے اٹھائے بیٹھے ہیں
آج مہندی لگائے بیٹھے ہیں
خوب وہ رنگ لائے بیٹھے ہیں
میرے آتے ہی ہو گئے برہم
کچھ کسی کے سکھائے بیٹھے ہیں
تیغ کھینچی ہے قتل پر میرے
ہاتھ مجھ سے اٹھائے بیٹھے ہیں
انجم تمہیں الفت ابھی کرنا نہیں آتا
ہر ایک پہ مرتے ہو پہ مرنا نہیں آتا
عالم کے حسیں بھرتے ہیں آنکھوں میں تمہاری
دم عشق کا بھرتے ہو پہ بھرنا نہیں آتا
ہم جان ہی سے اپنی گزر جائیں تو بہتر
ہٹ دھرمی سے ان کو جو گزرنا نہیں آتا
لطف ہو گر تو ہو اور مے خانہ ہو
میں ہوں، اور میرا دل دیوانہ ہو
جس زباں پر ہو تِرا افسانہ ہو
کوئی ہو، اپنا ہو یا بے گانہ ہو
یاں تو ہے دیدار سے تیری غرض
دیر ہو، کعبہ ہو یا بت خانہ ہو
اس نے آنے کا جو وعدہ کیا جاتے جاتے
دم مِرا سینے میں رکنے لگا آتے جاتے
خاک میں مجھ کو جو تم نے نہ ملایا نہ سہی
لاش ہی میری ٹھکانے سے لگاتے جاتے
تیرے دیوانوں کا دیکھے تو کوئی جوش و خروش
سوئے محشر بھی ہیں اک شور مچاتے جاتے
باعثِ ترکِ ملاقات بتاؤ تو سہی
چاہنے والا کوئی ہم سا دکھاؤ تو سہی
کیسی ہوتی ہے محبت نہیں معلوم تمہیں
ایک دو دن کہیں دل تم بھی لگاؤ تو سہی
بے وفائی کی ہے تہمت چلو مانا ہم نے
ہاں بھلا ہم سے ذرا آنکھ ملاؤ تو سہی