Showing posts with label آسماں جاہ انجم. Show all posts
Showing posts with label آسماں جاہ انجم. Show all posts

Sunday, 17 October 2021

آج مہندی لگائے بیٹھے ہیں

 آج مہندی لگائے بیٹھے ہیں

خوب وہ رنگ لائے بیٹھے ہیں

میرے آتے ہی ہو گئے برہم 

کچھ کسی کے سکھائے بیٹھے ہیں

تیغ کھینچی ہے قتل پر میرے

ہاتھ مجھ سے اٹھائے بیٹھے ہیں

Friday, 15 October 2021

انجم تمہیں الفت ابھی کرنا نہیں آتا

 انجم تمہیں الفت ابھی کرنا نہیں آتا

ہر ایک پہ مرتے ہو پہ مرنا نہیں آتا

عالم کے حسیں بھرتے ہیں آنکھوں میں تمہاری

دم عشق کا بھرتے ہو پہ بھرنا نہیں آتا

ہم جان ہی سے اپنی گزر جائیں تو بہتر

ہٹ دھرمی سے ان کو جو گزرنا نہیں آتا

لطف ہو گر تو ہو اور مے خانہ ہو

 لطف ہو گر تو ہو اور مے خانہ ہو

میں ہوں، اور میرا دل دیوانہ ہو

جس زباں پر ہو تِرا افسانہ ہو

کوئی ہو، اپنا ہو یا بے گانہ ہو

یاں تو ہے دیدار سے تیری غرض

دیر ہو، کعبہ ہو یا بت خانہ ہو

Thursday, 14 October 2021

اس نے آنے کا جو وعدہ کیا جاتے جاتے

 اس نے آنے کا جو وعدہ کیا جاتے جاتے

دم مِرا سینے میں رکنے لگا آتے جاتے

خاک میں مجھ کو جو تم نے نہ ملایا نہ سہی

لاش ہی میری ٹھکانے سے لگاتے جاتے

تیرے دیوانوں کا دیکھے تو کوئی جوش و خروش

سوئے محشر بھی ہیں اک شور مچاتے جاتے

Wednesday, 1 September 2021

باعث ترک ملاقات بتاؤ تو سہی

 باعثِ ترکِ ملاقات بتاؤ تو سہی

چاہنے والا کوئی ہم سا دکھاؤ تو سہی

کیسی ہوتی ہے محبت نہیں معلوم تمہیں

ایک دو دن کہیں دل تم بھی لگاؤ تو سہی

بے وفائی کی ہے تہمت چلو مانا ہم نے

ہاں بھلا ہم سے ذرا آنکھ ملاؤ تو سہی