Wednesday, 28 October 2026

حضور آپ کے حسن و جمال کا عالم

 حضُور آپ کے حُسن و جمال کا عالم

ہے میرے واسطے جنت کے خواب کا عالم

تِری نِِگاہوں میں ساقی مجھے نظر آیا

شراب پینے سے پہلے شراب کا عالم

وہاں کی خاک نہ کیوں آسمان کہلائے

جہاں کے ذرے میں ہے آفتاب کا عالم

شعور ہو تو سمجھ جاؤ پُوچھتے کیا ہو

کریم کے کرمِ بے حساب کا عالم

نقاب اُٹھائیں اگر وہ تو حشر ہو جائے

نِِگاہ سوز ہے جن کے نقاب کا عالم

بڑے زمانے کے بعد اِمتیاز اس کا ہوا

ہمارا عالمِ ہستی ہے خواب کا عالم

وفا نہ تیری کہیں شرمسار ہو اکمل

نہ پُوچھو میرے غمِ کامیاب کا عالم


اکمل آلدوری

No comments:

Post a Comment