Showing posts with label ہوش نعمانی. Show all posts
Showing posts with label ہوش نعمانی. Show all posts

Wednesday, 2 March 2022

ایک رنگین کہانی ہے ترے شہر کی رات

 ایک رنگین کہانی ہے تِرے شہر کی رات

ہائے یہ کس کی جوانی ہے ترے شہر کی رات

بس یوں ہی زلف بکھیرے ہوئے آ جا اے دوست

آج کس درجہ سہانی ہے ترے شہر کی رات

ریگزار دل شاعر کے لیے جان غزل

موج دریا کی روانی ہے ترے شہر کی رات

Sunday, 16 January 2022

اپنی جب وفاؤں پر ان کو بد گماں دیکھا

 اپنی جب وفاؤں پر ان کو بد گماں دیکھا

ہم نے کتنی حسرت سے سوئے آسماں دیکھا

تیلیوں سے ٹکرا کر کیا کہا ہواؤں نے

چونک کر اسیروں نے سوئے گلستاں دیکھا

ساز حال پر چھیڑا ہر ترانۂ ماضی

دل کو جب کبھی ہم نے مائل فغاں دیکھا

Wednesday, 5 January 2022

چاہتا ہوں کہ مرا درد جگر اور بڑھے

 چاہتا ہوں کہ مِرا درد جگر اور بڑھے

تیرگیٔ شب غم تا بہ سحر اور بڑھے

دور ہے مجھ سے ابھی دامن صد رنگ ان کا

کارواں اشکوں کا اے دیدۂ تر اور بڑھے

یوں تو تنہا ہی چلا جاؤں گا میں منزل تک

تم اگر ساتھ چلو عزمِ سفر اور بڑھے

Friday, 3 December 2021

دلوں سے ترک تعلق کا ڈر نکل جائے

 دلوں سے ترکِ تعلق کا ڈر نکل جائے

تِرا مزاج ذرا سا اگر بدل جائے

سبھی کے سامنے ہے اک ہجوم رشتوں کا

وہ کامراں ہے جو اس بھیڑ سے نکل جائے

اس ارتکابِ تمنا پہ کیا سزا دو گے؟

تمہارے قدموں پہ کوئی اگر مچل جائے

Monday, 19 July 2021

خواب تو دیکھ چکے یار سہانے کتنے

 خواب تو دیکھ چکے یار سہانے کتنے

اب یہ بتلا کہ تِرے غم ہیں اٹھانے کتنے

پھول کِھلنے بھی نہ پائے تھے کہ چپکے چپکے

گشت کرنے لگے خوشبو کے دِوانے کتنے

تجھ کو معلوم نہیں ایک تِرے دل کے سوا

تیرے جوگی ہوئے دنیا میں ٹھکانے کتنے