ایک رنگین کہانی ہے تِرے شہر کی رات
ہائے یہ کس کی جوانی ہے ترے شہر کی رات
بس یوں ہی زلف بکھیرے ہوئے آ جا اے دوست
آج کس درجہ سہانی ہے ترے شہر کی رات
ریگزار دل شاعر کے لیے جان غزل
موج دریا کی روانی ہے ترے شہر کی رات
ایک رنگین کہانی ہے تِرے شہر کی رات
ہائے یہ کس کی جوانی ہے ترے شہر کی رات
بس یوں ہی زلف بکھیرے ہوئے آ جا اے دوست
آج کس درجہ سہانی ہے ترے شہر کی رات
ریگزار دل شاعر کے لیے جان غزل
موج دریا کی روانی ہے ترے شہر کی رات
اپنی جب وفاؤں پر ان کو بد گماں دیکھا
ہم نے کتنی حسرت سے سوئے آسماں دیکھا
تیلیوں سے ٹکرا کر کیا کہا ہواؤں نے
چونک کر اسیروں نے سوئے گلستاں دیکھا
ساز حال پر چھیڑا ہر ترانۂ ماضی
دل کو جب کبھی ہم نے مائل فغاں دیکھا
چاہتا ہوں کہ مِرا درد جگر اور بڑھے
تیرگیٔ شب غم تا بہ سحر اور بڑھے
دور ہے مجھ سے ابھی دامن صد رنگ ان کا
کارواں اشکوں کا اے دیدۂ تر اور بڑھے
یوں تو تنہا ہی چلا جاؤں گا میں منزل تک
تم اگر ساتھ چلو عزمِ سفر اور بڑھے
دلوں سے ترکِ تعلق کا ڈر نکل جائے
تِرا مزاج ذرا سا اگر بدل جائے
سبھی کے سامنے ہے اک ہجوم رشتوں کا
وہ کامراں ہے جو اس بھیڑ سے نکل جائے
اس ارتکابِ تمنا پہ کیا سزا دو گے؟
تمہارے قدموں پہ کوئی اگر مچل جائے
خواب تو دیکھ چکے یار سہانے کتنے
اب یہ بتلا کہ تِرے غم ہیں اٹھانے کتنے
پھول کِھلنے بھی نہ پائے تھے کہ چپکے چپکے
گشت کرنے لگے خوشبو کے دِوانے کتنے
تجھ کو معلوم نہیں ایک تِرے دل کے سوا
تیرے جوگی ہوئے دنیا میں ٹھکانے کتنے