Sunday, 16 January 2022

اپنی جب وفاؤں پر ان کو بد گماں دیکھا

 اپنی جب وفاؤں پر ان کو بد گماں دیکھا

ہم نے کتنی حسرت سے سوئے آسماں دیکھا

تیلیوں سے ٹکرا کر کیا کہا ہواؤں نے

چونک کر اسیروں نے سوئے گلستاں دیکھا

ساز حال پر چھیڑا ہر ترانۂ ماضی

دل کو جب کبھی ہم نے مائل فغاں دیکھا

تیرگی کے پردے میں مرگ تیرگی ہے ہوش

جب اٹھا حجاب شب مہر ضو فشاں دیکھا


ہوش نعمانی

No comments:

Post a Comment