Showing posts with label بہزاد جاذب. Show all posts
Showing posts with label بہزاد جاذب. Show all posts

Friday, 26 June 2026

ہم لوگ کسی دل میں اتر کیوں نہیں جاتے

 ہم لوگ کسی دل میں اتر کیوں نہیں جاتے

دھرتی پہ ہیں گر بوجھ تو مر کیوں نہیں جاتے

ہر گام پہ ملتی ہیں تجھے منزلیں کیسے

بے کار تمہارے یہ سفر کیوں جاتے

رہتی ہے انھیں دیکھ کے پھر دید کی خواہش

دل حسن کے دیدار سے بھر کیوں نہیں جاتے

Monday, 24 November 2025

سمجھے اگر نہ اب بھی کوئی بات دوستو

 سمجھے اگر نہ اب بھی کوئی بات دوستو

یونہی رہے گی ظلم کی یہ رات دوستو

تم جو ابھی تلک ہو سہاروں کی آس پر

بگڑیں گے اور بھی ابھی حالات دوستو

دل میں کسی کی یاد کچھ آئی ہے اس طرح

جیسے ہو رہگزار میں برسات دوستو

Saturday, 26 October 2024

یونہی امید دلاتے ہیں زمانے والے

 یونہی امید دلاتے ہیں زمانے والے

کب پلٹتے ہیں بھلا چھوڑ کے جانے والے

تُو کبھی دیکھ جھُلستے ہوئے صحرا میں درخت

کیسے جلتے ہیں وفاؤں کو نبھانے والے

ان سے آتی ہے تِرے لمس کی خوشبو اب بھی

خط نکالے ہوئے بیٹھا ہوں پرانے والے

Thursday, 12 September 2024

اجاڑ لمحوں کی داستانیں جو تم کہو تو سنائیں تم کو

 اُجاڑ لمحوں کی داستانیں جو تم کہو تو سُنائیں تم کو

بہت سا ہم جاگتے رہے ہیں چلو ذرا سا جگائیں تم کو

تمہی ہو جو روشنی سی بن کر ہماری آنکھوں میں آ بسے ہو

جب اپنی آنکھیں ہی کہہ دیا ہے تو پھر بھلا کیوں رُلائیں تم کو

تم آج کیوں مُضطرب ہو جاناں، تمہارے لہجے میں ٹُوٹ کیسی

کہا نہیں تھا کہ وقت دے گا کدُورتوں کی سزائیں تم کو