ہم لوگ کسی دل میں اتر کیوں نہیں جاتے
دھرتی پہ ہیں گر بوجھ تو مر کیوں نہیں جاتے
ہر گام پہ ملتی ہیں تجھے منزلیں کیسے
بے کار تمہارے یہ سفر کیوں جاتے
رہتی ہے انھیں دیکھ کے پھر دید کی خواہش
دل حسن کے دیدار سے بھر کیوں نہیں جاتے
ہم لوگ کسی دل میں اتر کیوں نہیں جاتے
دھرتی پہ ہیں گر بوجھ تو مر کیوں نہیں جاتے
ہر گام پہ ملتی ہیں تجھے منزلیں کیسے
بے کار تمہارے یہ سفر کیوں جاتے
رہتی ہے انھیں دیکھ کے پھر دید کی خواہش
دل حسن کے دیدار سے بھر کیوں نہیں جاتے
سمجھے اگر نہ اب بھی کوئی بات دوستو
یونہی رہے گی ظلم کی یہ رات دوستو
تم جو ابھی تلک ہو سہاروں کی آس پر
بگڑیں گے اور بھی ابھی حالات دوستو
دل میں کسی کی یاد کچھ آئی ہے اس طرح
جیسے ہو رہگزار میں برسات دوستو
یونہی امید دلاتے ہیں زمانے والے
کب پلٹتے ہیں بھلا چھوڑ کے جانے والے
تُو کبھی دیکھ جھُلستے ہوئے صحرا میں درخت
کیسے جلتے ہیں وفاؤں کو نبھانے والے
ان سے آتی ہے تِرے لمس کی خوشبو اب بھی
خط نکالے ہوئے بیٹھا ہوں پرانے والے
اُجاڑ لمحوں کی داستانیں جو تم کہو تو سُنائیں تم کو
بہت سا ہم جاگتے رہے ہیں چلو ذرا سا جگائیں تم کو
تمہی ہو جو روشنی سی بن کر ہماری آنکھوں میں آ بسے ہو
جب اپنی آنکھیں ہی کہہ دیا ہے تو پھر بھلا کیوں رُلائیں تم کو
تم آج کیوں مُضطرب ہو جاناں، تمہارے لہجے میں ٹُوٹ کیسی
کہا نہیں تھا کہ وقت دے گا کدُورتوں کی سزائیں تم کو