لاعنوان
وہ ان گنت خط
جو کتنی ہی زندگیوں میں
میں نے تمہیں لکھے تھے
اور تم نے ہر ایک خط
مسکراتے ہنستے روتے
کئی کئی بار پڑھا
لاعنوان
وہ ان گنت خط
جو کتنی ہی زندگیوں میں
میں نے تمہیں لکھے تھے
اور تم نے ہر ایک خط
مسکراتے ہنستے روتے
کئی کئی بار پڑھا
میری دوست
میری ایک دوست
ہمدم اور ہمراز
اس کی گہری اداس آنکھیں
سرود کے سروں جیسی
برگد کی چھالوں جیسے بال
میری خاموشی میں
وقت کی آواز پنہاں ہے
اس میں ہے
شمع کی لرزاں جُنبش
اور آگ کی گرمی
طوفان کا اضطراب ہے
سکون
ایک طویل عمر
تم اور میں
اپنے اپنے گھروں میں بند تھے
جہاں زندگی نے کڑے پہرے لگا رکھے تھے
اصولوں کے رشتوں کے اور فرائض کے
تاج محل
پونم کی روشنی میں
تاج محل
کمال کی سرحد کے اس پار
بے حد اکیلا
اور بہت اداس
جیسے کوئی بلا کی حسینہ