نزدیک سی شے سایۂ حائل سے بہت دور
منزل ہے شناسائی منزل سے بہت دور
دشوار سہی دور نہیں نکتہ رسی سے
لیکن ہے غلط رسمیٔ راحل سے بہت دور
یہ عین خودی عشق کے آثار میں ہے غم
پہلو سے ہے کم دور مقابل سے بہت دور
نزدیک سی شے سایۂ حائل سے بہت دور
منزل ہے شناسائی منزل سے بہت دور
دشوار سہی دور نہیں نکتہ رسی سے
لیکن ہے غلط رسمیٔ راحل سے بہت دور
یہ عین خودی عشق کے آثار میں ہے غم
پہلو سے ہے کم دور مقابل سے بہت دور
غیروں کا تو کہنا کیا محرم سے نہیں کہتا
میں عالمِ غم اپنا عالم سے نہیں کہتا
پڑھ لیتی ہیں کیفیت کچھ تڑپی ہوئی نظریں
دکھ اپنے میں ہر چشم پر نم سے نہیں کہتا
رہگیر ہوں میں ایسا ہر غم سے گزرتا ہے
دعوت پہ جو رندانِ خرم سے نہیں کہتا
حشر مِرا بخیر ہو مجھ کو بنا رہے ہو تم
خاک میں جان ڈال کر خاک اُڑا رہے ہو تم
عبرتِ ذوق زہر خندۂ ذوق زبونی دو چند
شوق بڑھا کے پے بہ پے شمعیں بُجھا رہے ہو تم
میرے عدم میں بھی بہم تھا ستمِ ازل کا غم
پہلے ہی میں نزار تھا اور ستا رہے ہو تم
کسی کی بد گمانی پر
حُسن کو بد گمان رہنے دے
راز دل راز دان رہنے دے
نگۂ نیم کش کی عمر دراز
نوبت اک درمیان رہنے دے
حسرت عنفوان راز و نیاز
روح پر حکمران رہنے دے
حشر مرا بخیر ہو ، مجھ کو بنا رہے ہو تم
خاک میں جان ڈال کر، خاک اڑا رہے ہو تم
عبرتِ ذوق زہر خند، ذوقِ زبوئی دو چند
شوق بڑھا کے پے بہ پے شمعیں بجھا رہے ہو تم
میرے عدم میں بھی بہم، تھا ستمِ ازل کا غم
پہلے ہی میں نزار تھا، اور ستا رہے ہو تم