Showing posts with label حسن لطیفی. Show all posts
Showing posts with label حسن لطیفی. Show all posts

Wednesday, 26 May 2021

نزدیک سی شے سایۂ حائل سے بہت دور

 نزدیک سی شے سایۂ حائل سے بہت دور

منزل ہے شناسائی منزل سے بہت دور

دشوار سہی دور نہیں نکتہ رسی سے

لیکن ہے غلط رسمیٔ راحل سے بہت دور

یہ عین خودی عشق کے آثار میں ہے غم

پہلو سے ہے کم دور مقابل سے بہت دور

Tuesday, 25 May 2021

غیروں کا تو کہنا کیا محرم سے نہیں کہتا

 غیروں کا تو کہنا کیا محرم سے نہیں کہتا

میں عالمِ غم اپنا عالم سے نہیں کہتا

پڑھ لیتی ہیں کیفیت کچھ تڑپی ہوئی نظریں

دکھ اپنے میں ہر چشم پر نم سے نہیں کہتا

رہگیر ہوں میں ایسا ہر غم سے گزرتا ہے

دعوت پہ جو رندانِ خرم سے نہیں کہتا

Sunday, 23 May 2021

حشر مرا بخیر ہو مجھ کو بنا رہے ہو تم

 حشر مِرا بخیر ہو مجھ کو بنا رہے ہو تم

خاک میں جان ڈال کر خاک اُڑا رہے ہو تم

عبرتِ ذوق زہر خندۂ ذوق زبونی دو چند

شوق بڑھا کے پے بہ پے شمعیں بُجھا رہے ہو تم

میرے عدم میں بھی بہم تھا ستمِ ازل کا غم

پہلے ہی میں نزار تھا اور ستا رہے ہو تم

Saturday, 22 May 2021

حسن کو بد گمان رہنے دے

 کسی کی بد گمانی پر


حُسن کو بد گمان رہنے دے 

راز دل راز دان رہنے دے 

نگۂ نیم کش کی عمر دراز 

نوبت اک درمیان رہنے دے 

حسرت عنفوان راز و نیاز 

روح پر حکمران رہنے دے 

Tuesday, 23 March 2021

حشر مرا بخیر ہو مجھ کو بنا رہے ہو تم

 حشر مرا بخیر ہو ، مجھ کو بنا رہے ہو تم

خاک میں جان ڈال کر، خاک اڑا رہے ہو تم

عبرتِ ذوق زہر خند، ذوقِ زبوئی دو چند

شوق بڑھا کے پے بہ پے شمعیں بجھا رہے ہو تم

میرے عدم میں بھی بہم، تھا ستمِ ازل کا غم

پہلے ہی میں نزار تھا، اور ستا رہے ہو تم