تیرے خیال تیرے ہی منظر میں جاگ کر
روشن آنکھیں ایک ہی محور میں جاگ کر
کروٹ بدلتے رہتے ہیں بستر میں جاگ کر
گنتے ہیں تارے وہ بھی برابر میں جاگ کر
کھویا ہوا میں رہتا ہوں احباب ان دنوں
وہم و گماں کے روز ہی محشر میں جاگ کر
تیرے خیال تیرے ہی منظر میں جاگ کر
روشن آنکھیں ایک ہی محور میں جاگ کر
کروٹ بدلتے رہتے ہیں بستر میں جاگ کر
گنتے ہیں تارے وہ بھی برابر میں جاگ کر
کھویا ہوا میں رہتا ہوں احباب ان دنوں
وہم و گماں کے روز ہی محشر میں جاگ کر
بوند دو بوند نہیں لے کے وہ دریا گزرا
تیرے در سے کوئی بدبخت نہ پیاسا گزرا
چیخ سن پایا نہ روتا ہوا چہرہ دیکھا
بلکہ انجان مِرے غم سے شناسا گزرا
ایک عالم کا جہاں سے تھا گزرنا مشکل
عزمِ محکم مِرا اس راہ سے تنہا گزرا
نصیب اوج پہ تھا، احترام کرتا تھا
زمانہ مجھ کو بھی فرشی سلام کرتا تھا
عزیز رکھتا تھا سانسیں بھی نام کرتا تھا
عجیب شخص تھا جینا حرام کرتا تھا
رکھی تھی میز پہ تصویر تیری رنگیں ایک
جسے میں دیکھ کر دفتر کا کام کرتا تھا
احساس کے جنگل میں خوشبو کا مسافر ہوں
غالب کی حویلی کا خوش رنگ میں طائر ہوں
غزلوں میں تِرا چرچہ کرتا ہوں سرِ محفل
خود ہوتا ہوں میں رسوا مجبور ہوں شاعر ہوں
درویش سکونت کے خانے میں کرے کیا درج
درپیش رہی ہجرت،۔ ہر لمحہ مہاجر ہوں
حسن آیا ہے بازار تک
بات پہنچے خریدار تک
ہم نے ہتھیار ڈالے نہیں
گر گئی سر سے دستار تک
کون اترا ہے میدان میں
خوف میں ہے جو سالار تک