Showing posts with label مسرور نظامی. Show all posts
Showing posts with label مسرور نظامی. Show all posts

Friday, 19 November 2021

تیرے خیال تیرے ہی منظر میں جاگ کر

 تیرے خیال تیرے ہی منظر میں جاگ کر

روشن آنکھیں ایک ہی محور میں جاگ کر

کروٹ بدلتے رہتے ہیں بستر میں جاگ کر

گنتے ہیں تارے وہ بھی برابر میں جاگ کر

کھویا ہوا میں رہتا ہوں احباب ان دنوں

وہم و گماں کے روز ہی محشر میں جاگ کر

Monday, 15 November 2021

بوند دو بوند نہیں لے کے وہ دریا گزرا

 بوند دو بوند نہیں لے کے وہ دریا گزرا

تیرے در سے کوئی بدبخت نہ پیاسا گزرا

چیخ سن پایا نہ روتا ہوا چہرہ دیکھا

بلکہ انجان مِرے غم سے شناسا گزرا

ایک عالم کا جہاں سے تھا گزرنا مشکل

عزمِ محکم مِرا اس راہ سے تنہا گزرا

Sunday, 14 November 2021

نصیب اوج پہ تھا احترام کرتا تھا

 نصیب اوج پہ تھا، احترام کرتا تھا

زمانہ مجھ کو بھی فرشی سلام کرتا تھا

عزیز رکھتا تھا سانسیں بھی نام کرتا تھا

عجیب شخص تھا جینا حرام کرتا تھا

رکھی تھی میز پہ تصویر تیری رنگیں ایک

جسے میں دیکھ کر دفتر کا کام کرتا تھا

Tuesday, 31 August 2021

احساس کے جنگل میں خوشبو کا مسافر ہوں

 احساس کے جنگل میں خوشبو کا مسافر ہوں

غالب کی حویلی کا خوش رنگ میں طائر ہوں

غزلوں میں تِرا چرچہ کرتا ہوں سرِ محفل

خود ہوتا ہوں میں رسوا مجبور ہوں شاعر ہوں

درویش سکونت کے خانے میں کرے کیا درج

درپیش رہی ہجرت،۔ ہر لمحہ مہاجر ہوں

Sunday, 29 August 2021

حسن آیا ہے بازار تک بات پہنچے خریدار تک

 حسن آیا ہے بازار تک

بات پہنچے خریدار تک

ہم نے ہتھیار ڈالے نہیں

گر گئی سر سے دستار تک

کون اترا ہے میدان میں

خوف میں ہے جو سالار تک