نصیب اوج پہ تھا، احترام کرتا تھا
زمانہ مجھ کو بھی فرشی سلام کرتا تھا
عزیز رکھتا تھا سانسیں بھی نام کرتا تھا
عجیب شخص تھا جینا حرام کرتا تھا
رکھی تھی میز پہ تصویر تیری رنگیں ایک
جسے میں دیکھ کر دفتر کا کام کرتا تھا
عجیب شخص ہے اب جانتا نہیں مجھ کو
کبھی جو فون پہ گھنٹوں کلام کرتا تھا
یہ کیسا طرفہ تماشا ہے رند ہے نہ ۔۔۔
کہ پارسائی مجھے پیش جام کرتا تھا
میں آ گیا ہوں تو سہما سہما سا کوئی
جو آہٹوں پہ مِری اہتمام کرتا تھا
نہ جانے آج کل رہتا کہاں ہے وہ ظالم
کبھی تو دل میں مِرے ہی قیام کرتا تھا
مسرور نظامی
No comments:
Post a Comment