Showing posts with label حیدر گیلانی. Show all posts
Showing posts with label حیدر گیلانی. Show all posts

Sunday, 6 June 2021

جسے بھی بزم سے تیری اٹھا دیا گیا ہے

 جسے بھی بزم سے تیری اُٹھا دیا گیا ہے

وہ ایک حرفِ غلط تھا، مِٹا دیا گیا ہے

میں ایک دشت ہوں جلنا نصیب ہے میرا

مگر وہ پھول جو مجھ میں کِھلا دیا گیا ہے

میں تیرے ساتھ چلا ہوں نہ تیری دنیا کے

خفا نہ ہو مجھے رستہ جُدا دیا گیا ہے

Tuesday, 27 April 2021

روح گھائل ہو گئی اور جسم بھی شل ہو گیا

 روح گھائل ہو گئی اور جسم بھی شل ہو گیا

دائرہ⭕ میری مسافت کا مکمل ہو گیا

کون جانے عقل کی اس تک رسائی ہی نہیں

لوگ دیوانے کو سمجھے ہیں کہ پاگل ہو گیا

وہ وداعِ وصل کا لمحہ بھی کیا لمحہ تھا جو

پھیل کر جگ میں ڈھلا، سمٹا تو اک پل ہو گیا

Saturday, 24 April 2021

نقش بن کر سر آئینہ بگڑ جاتا ہے

 نقش بن کر سرِ آئینہ بگڑ جاتا ہے

مجھ سے ہمزاد مِرا مل کے بچھڑ جاتا ہے

پھُول چہروں پہ خزاں دیکھ کے حیرت کیسی

جبر چھائے تو یونہی خون نِچڑ جاتا ہے

اب بھی اک تیر نظر آتا ہے پیوستِ گلُو

اب بھی اک نیزہ مِرے سینے میں گڑ جاتا ہے

Thursday, 22 April 2021

سلاخ بن کے میرے دل کے آر پار ہوا

 سلاخ بن کے میرے دل کے آر پار ہوا

وہ اک ستم کہ تِرا روز کا شعار ہوا

میں خارزار حقیقت سے جب کبھی گزرا

لباس خوب ہمیشہ ہی تار تار ہوا

وہ کیا خوشی تھی کہ اشکوں میں ڈھل گئی آخر

قرار پایا تو کچھ اور بے قرار ہوا

بھری بستی سے اک چہرہ گیا ہے

 بھری بستی سے اک چہرہ گیا ہے

میرا سورج سا دل گہنا گیا ہے

کسی کا کچھ نہیں بگڑتا میری جان

دلِ خوش فہم تو مارا گیا ہے

میں آدھا اس کے ہمراہ جا چکا ہوں

مگر مجھ سے تو وہ پورا گیا ہے

Wednesday, 21 April 2021

ضمیر ذات سنائے گا جو سزا ہے جدا

 ضمیرِ ذات سُنائے گا جو سزا ہے جُدا

دِکھائے گا جو زمانہ وہ آئینہ ہے جدا

میں تجھ کو بھُولنا چاہوں یہ حادثہ ہے الگ

میں تجھ کو بھُول نہ پاؤں یہ سانحہ ہے جدا

کبھی چلے تھے تِری سمت اب پلٹنا ہے

وہ راہ اور تھی، لیکن یہ راستہ ہے جدا