جسے بھی بزم سے تیری اُٹھا دیا گیا ہے
وہ ایک حرفِ غلط تھا، مِٹا دیا گیا ہے
میں ایک دشت ہوں جلنا نصیب ہے میرا
مگر وہ پھول جو مجھ میں کِھلا دیا گیا ہے
میں تیرے ساتھ چلا ہوں نہ تیری دنیا کے
خفا نہ ہو مجھے رستہ جُدا دیا گیا ہے
جسے بھی بزم سے تیری اُٹھا دیا گیا ہے
وہ ایک حرفِ غلط تھا، مِٹا دیا گیا ہے
میں ایک دشت ہوں جلنا نصیب ہے میرا
مگر وہ پھول جو مجھ میں کِھلا دیا گیا ہے
میں تیرے ساتھ چلا ہوں نہ تیری دنیا کے
خفا نہ ہو مجھے رستہ جُدا دیا گیا ہے
روح گھائل ہو گئی اور جسم بھی شل ہو گیا
دائرہ⭕ میری مسافت کا مکمل ہو گیا
کون جانے عقل کی اس تک رسائی ہی نہیں
لوگ دیوانے کو سمجھے ہیں کہ پاگل ہو گیا
وہ وداعِ وصل کا لمحہ بھی کیا لمحہ تھا جو
پھیل کر جگ میں ڈھلا، سمٹا تو اک پل ہو گیا
نقش بن کر سرِ آئینہ بگڑ جاتا ہے
مجھ سے ہمزاد مِرا مل کے بچھڑ جاتا ہے
پھُول چہروں پہ خزاں دیکھ کے حیرت کیسی
جبر چھائے تو یونہی خون نِچڑ جاتا ہے
اب بھی اک تیر نظر آتا ہے پیوستِ گلُو
اب بھی اک نیزہ مِرے سینے میں گڑ جاتا ہے
سلاخ بن کے میرے دل کے آر پار ہوا
وہ اک ستم کہ تِرا روز کا شعار ہوا
میں خارزار حقیقت سے جب کبھی گزرا
لباس خوب ہمیشہ ہی تار تار ہوا
وہ کیا خوشی تھی کہ اشکوں میں ڈھل گئی آخر
قرار پایا تو کچھ اور بے قرار ہوا
بھری بستی سے اک چہرہ گیا ہے
میرا سورج سا دل گہنا گیا ہے
کسی کا کچھ نہیں بگڑتا میری جان
دلِ خوش فہم تو مارا گیا ہے
میں آدھا اس کے ہمراہ جا چکا ہوں
مگر مجھ سے تو وہ پورا گیا ہے
ضمیرِ ذات سُنائے گا جو سزا ہے جُدا
دِکھائے گا جو زمانہ وہ آئینہ ہے جدا
میں تجھ کو بھُولنا چاہوں یہ حادثہ ہے الگ
میں تجھ کو بھُول نہ پاؤں یہ سانحہ ہے جدا
کبھی چلے تھے تِری سمت اب پلٹنا ہے
وہ راہ اور تھی، لیکن یہ راستہ ہے جدا