Sunday, 6 June 2021

جسے بھی بزم سے تیری اٹھا دیا گیا ہے

 جسے بھی بزم سے تیری اُٹھا دیا گیا ہے

وہ ایک حرفِ غلط تھا، مِٹا دیا گیا ہے

میں ایک دشت ہوں جلنا نصیب ہے میرا

مگر وہ پھول جو مجھ میں کِھلا دیا گیا ہے

میں تیرے ساتھ چلا ہوں نہ تیری دنیا کے

خفا نہ ہو مجھے رستہ جُدا دیا گیا ہے

شعلۂ نور تھا، قبلہ نما تھا، کیا کچھ تھا؟

وہ سنگِ راہ جسے راہ سے ہٹا دیا گیا ہے

وہ اپنی پیاس سے کوثر کشید کیوں نہ کرے

جِسے بھی دوست غمِ کربلا دیا گیا ہے

سندیسہ وصل کا ہو گا پیامِ موت ہمیں

ہماری آنکھ سے پردہ اُٹھا دِیا گیا ہے

میں سر بلندِ ازل ہوں سو کاٹ کر مِرا سر

فرازِ نوکِ سِناں پر سجا دیا گیا ہے

وہ ایک زہر جو اُس نے ہمیں دیا حیدر

اسی میں تیرِ سخن کو بُجھا دیا گیا ہے


حیدر گیلانی

No comments:

Post a Comment