ایک نشانی آگ میں پھینکی ایک نشانی دریا میں
اور پھر اتنے اشک بہائے جتنا پانی دریا میں
ایک محبت کچے گھڑے پر تیرتی تیرتی ڈوب گئی
موجیں لکھتی رہتی ہیں وہ روز کہانی دریا میں
تھک جاؤ تو رستہ بدلو اپنی اپنی ناؤ کا
کیا دریا سے لڑنا اور کیا آگ لگانی دریا میں
ایک نشانی آگ میں پھینکی ایک نشانی دریا میں
اور پھر اتنے اشک بہائے جتنا پانی دریا میں
ایک محبت کچے گھڑے پر تیرتی تیرتی ڈوب گئی
موجیں لکھتی رہتی ہیں وہ روز کہانی دریا میں
تھک جاؤ تو رستہ بدلو اپنی اپنی ناؤ کا
کیا دریا سے لڑنا اور کیا آگ لگانی دریا میں
جب آفتاب سمندر میں جا گراتا ہوں
تب اپنے آپ سے باہر نکل کے آتا ہوں
حسین خوابوں کو سارے ہرے پرندوں کو
جھلستی ذات کے صحرا میں چھوڑ آتا ہوں
جو ٹوٹتا ہے اجالوں کے شہر میں تارا
میں جگنوؤں کے لیے آشیاں بناتا ہوں
اس کے آنے سے پہلے
اس کی خوشبو آتی ہے
آسمان سے دھرتی تک
اک بہار آ جاتی ہے
ایسے میں تو چپکے سے
خوابوں میں کھو جاتا ہوں
کتنے گرداب کھو گئے مجھ میں
میرے سب خواب کھو گئے مجھ میں
سادگی میری ڈھونڈ لائی تمہیں
تم تھے چالاک کھو گئے مجھ میں
ان کے ہونے سے میرا ہونا ہے
لفظ لولاک ہو گئے مجھ میں
سوالات مسترد ہیں, جوابات مسترد
وہ گفتگو اور شدتِ جذبات مسترد
میں ہر حال میں کروں گا تجدیدِ تعلق
جھوٹا سماج اور اس کی روایات مسترد
کچا مکان یاس کی بارش میں بہ گیا
رنگیں فضا، کالی گھٹا، برسات مسترد
عشق بھی اجسام کا بیوپار ہی تو ہے
وعدۂ وفا کیا ہے؟ گفتار ہی تو ہے
اس صاحبِ اختیار کی تقلید کیا کریں
اک مُردہ کہانی کا کردار ہی تو ہے
ہوتی ہے شب و روز جذبوں کی تجارت
ہر شخص یہاں حسن کا خریدار ہی تو ہے
اسی کے قدموں سے ایک چہرہ نکالنا ہے
گرے شجر سے ہوا کا شجرہ نکالنا ہے
میں دیر سے ایک در پہ خالی کھڑا ہوا ہوں
کسی کی مصروفیت میں وقفہ نکالنا ہے
مجھے پہاڑوں کو کھودتے دیکھ کیا رہے ہو
کہیں پہنچنا نہیں ہے، رستہ نکالنا ہے
بکھرا ہوا ہے درد اب کے خزاں میں
دستورِ ستم نافذ ہے بزمِ جہاں میں
وقت کی چکی نے کیا تخت کو تختہ
سوئے ہوئے تھے تاجدار خوابِ گراں میں
یہ خوابیدہ آنکھیں ستارے تو نہیں ہیں
کیوں ڈھونڈتا ہے ان کو توکہکشاں میں
منظر کا احسان اُتارا جا سکتا ہے
آنکھ کو یارا بھوکا مارا جا سکتا ہے
آنگن آنگن آگ اُگائی جا سکتی ہے
کمروں میں دریا کا کنارا جا سکتا ہے
کرچی کرچی خواب چمکتا ہے آنکھوں میں
ان سے اب دنیا کو سنوارا جا سکتا ہے
ہر ہاتھ میں بندوق ہے، ہر نظر تلوار🗡 ہے
آج تو سارے کا سارا شہر ہی خونخوار ہے
اترا ہوا ہے خون جو ہر ایک شخص کی آنکھ میں
کس سے جا کے پوچھوں میں کون میرا گنہگار ہے
خون میرا جو مل گیا ہے، تیرے شہر کی خاک میں
کُچلا بھی، روندا بھی ہے، یہ تماشہ سرِ بازار ہے
اس شہر کے لوگ بھی کیا خوب سخاوت کرتے ہیں
کانٹوں کے عوض پھولوں کی یہ تجارت کرتے ہیں
جس دیس میں مظلوم کی نہ ہو کوئی داد رسی
اس دیس کے ہر قانون سے ہم بغاوت کرتے ہیں
زرد چہروں پر لکھی ہے کرب و عسرت کی تحریر
خنجرِ جبر و ستم سے ظلم عبارت کرتے ہیں