Showing posts with label فاروق طاہر. Show all posts
Showing posts with label فاروق طاہر. Show all posts

Tuesday, 21 February 2023

ایک نشانی آگ میں پھینکی ایک نشانی دریا میں

 ایک نشانی آگ میں پھینکی ایک نشانی دریا میں

اور پھر اتنے اشک بہائے جتنا پانی دریا میں

ایک محبت کچے گھڑے پر تیرتی تیرتی ڈوب گئی

موجیں لکھتی رہتی ہیں وہ روز کہانی دریا میں

تھک جاؤ تو رستہ بدلو اپنی اپنی ناؤ کا

کیا دریا سے لڑنا اور کیا آگ لگانی دریا میں

Wednesday, 20 April 2022

جب آفتاب سمندر میں جا گراتا ہوں

 جب آفتاب سمندر میں جا گراتا ہوں

تب اپنے آپ سے باہر نکل کے آتا ہوں

حسین خوابوں کو سارے ہرے پرندوں کو

جھلستی ذات کے صحرا میں چھوڑ آتا ہوں

جو ٹوٹتا ہے اجالوں کے شہر میں تارا

میں جگنوؤں کے لیے آشیاں بناتا ہوں

Monday, 31 January 2022

اس کے آنے سے پہلے

 اس کے آنے سے پہلے

اس کی خوشبو آتی ہے

آسمان سے دھرتی تک

اک بہار آ جاتی ہے

ایسے میں تو چپکے سے

خوابوں میں کھو جاتا ہوں

کتنے گرداب کھو گئے مجھ میں

 کتنے گرداب کھو گئے مجھ میں

میرے سب خواب کھو گئے مجھ میں

سادگی میری ڈھونڈ لائی تمہیں

تم تھے چالاک کھو گئے مجھ میں

ان کے ہونے سے میرا ہونا ہے

لفظ لولاک ہو گئے مجھ میں

Friday, 28 January 2022

سوالات مسترد ہیں جوابات مسترد

 سوالات مسترد ہیں, جوابات مسترد

وہ گفتگو اور شدتِ جذبات مسترد

میں ہر حال میں کروں گا تجدیدِ تعلق

جھوٹا سماج اور اس کی روایات مسترد

کچا مکان یاس کی بارش میں بہ گیا

رنگیں فضا، کالی گھٹا، برسات مسترد

Saturday, 22 January 2022

عشق بھی اجسام کا بیوپار ہی تو ہے

 عشق بھی اجسام کا بیوپار ہی تو ہے

وعدۂ وفا کیا ہے؟ گفتار ہی تو ہے

اس صاحبِ اختیار کی تقلید کیا کریں

اک مُردہ کہانی کا کردار ہی تو ہے

ہوتی ہے شب و روز جذبوں کی تجارت

ہر شخص یہاں حسن کا خریدار ہی تو ہے

Wednesday, 19 January 2022

اسی کے قدموں سے ایک چہرہ نکالنا ہے

 اسی کے قدموں سے ایک چہرہ نکالنا ہے

گرے شجر سے ہوا کا شجرہ نکالنا ہے

میں دیر سے ایک در پہ خالی کھڑا ہوا ہوں

کسی کی مصروفیت میں وقفہ نکالنا ہے

مجھے پہاڑوں کو کھودتے دیکھ کیا رہے ہو

کہیں پہنچنا نہیں ہے، رستہ نکالنا ہے

Tuesday, 11 January 2022

بکھرا ہوا ہے درد اب کے خزاں میں

 بکھرا ہوا ہے درد اب کے خزاں میں

دستورِ ستم نافذ ہے بزمِ جہاں میں

وقت کی چکی نے کیا تخت کو تختہ

سوئے ہوئے تھے تاجدار خوابِ گراں میں

یہ خوابیدہ آنکھیں ستارے تو نہیں ہیں

کیوں ڈھونڈتا ہے ان کو توکہکشاں میں

Thursday, 30 December 2021

منظر کا احسان اتارا جا سکتا ہے

 منظر کا احسان اُتارا جا سکتا ہے

آنکھ کو یارا بھوکا مارا جا سکتا ہے

آنگن آنگن آگ اُگائی جا سکتی ہے

کمروں میں دریا کا کنارا جا سکتا ہے

کرچی کرچی خواب چمکتا ہے آنکھوں میں

ان سے اب دنیا کو سنوارا جا سکتا ہے

Wednesday, 29 December 2021

ہر ہاتھ میں بندوق ہے ہر نظر تلوار ہے

 ہر ہاتھ میں بندوق ہے، ہر نظر تلوار🗡 ہے

آج تو سارے کا سارا شہر ہی خونخوار ہے

اترا ہوا ہے خون جو ہر ایک شخص کی آنکھ میں

کس سے جا کے پوچھوں میں کون میرا گنہگار ہے

خون میرا جو مل گیا ہے، تیرے شہر کی خاک میں

کُچلا بھی، روندا بھی ہے، یہ تماشہ سرِ بازار ہے

Tuesday, 24 August 2021

اس شہر کے لوگ بھی کیا خوب سخاوت کرتے ہیں

 اس شہر کے لوگ بھی کیا خوب سخاوت کرتے ہیں

کانٹوں کے عوض پھولوں کی یہ تجارت کرتے ہیں

جس دیس میں مظلوم کی نہ ہو کوئی داد رسی

اس دیس کے ہر قانون سے ہم بغاوت کرتے ہیں

زرد چہروں پر لکھی ہے کرب و عسرت کی تحریر

خنجرِ جبر و ستم سے  ظلم عبارت کرتے ہیں