Wednesday, 19 January 2022

اسی کے قدموں سے ایک چہرہ نکالنا ہے

 اسی کے قدموں سے ایک چہرہ نکالنا ہے

گرے شجر سے ہوا کا شجرہ نکالنا ہے

میں دیر سے ایک در پہ خالی کھڑا ہوا ہوں

کسی کی مصروفیت میں وقفہ نکالنا ہے

مجھے پہاڑوں کو کھودتے دیکھ کیا رہے ہو

کہیں پہنچنا نہیں ہے، رستہ نکالنا ہے

بڑے بڑوں سے اکڑ کے ملتا ہوں آج کل میں

مجھے خداؤں میں ایک بندہ نکالنا ہے

بہت دنوں سے سکون پھیلا ہے زندگی میں

اسی تسلی میں اب اچنبھا نکالنا ہے


فاروق طاہر

No comments:

Post a Comment