Showing posts with label قیصر بلرامپوری. Show all posts
Showing posts with label قیصر بلرامپوری. Show all posts

Sunday, 14 December 2025

کوئی راز نہیں کوئی بھید نہیں سب ظاہر ہے تو چھپائیں کیا

 کوئی راز نہیں کوئی بھید نہیں سب ظاہر ہے تو چھپائیں کیا

تم ضد پہ اڑے تم شک میں پڑے تم خود ہی کہو بتلائیں کیا

کوئی کرب نہیں کوئی درد نہیں چہرہ بھی ہمارا زرد نہیں

جب دل میں نہ اٹھے ٹیس کوئی پھر سچا شعر سنائیں کیا

ہم دل کو کیا ناشاد کریں کیا وقت اپنا برباد کریں

بے وجہ تمہیں کیا یاد کریں آنکھوں کو خون رلائیں کیا

Friday, 1 August 2025

وفاداری کا دعویٰ کر رہے ہو

 وفاداری کا دعویٰ کر رہے ہو

تو کیوں دنیا کی پروا کر رہے ہو

سمجھتے بھی ہو خوابوں کی حقیقت

مگر خوابوں کا پیچھا کر رہے ہو

اسی سے تم جھگڑتے بھی ہو ہر پل

اسی کی ہی تمنا کر رہے ہو

Wednesday, 16 April 2025

سنبھل سنبھل کے یہاں زندگی بسر کی ہے

 سنبھل سنبھل کے یہاں زندگی بسر کی ہے

بڑی طویل کہانی تھی مختصر کی ہے

تو مجھ کو خاک سمجھتا ہے خاک سمجھا کر

مگر یہ دیکھ کہ یہ خاک کس کے در کی ہے

وہ جس کی چھاؤں میں آنے سے جسم جل جائے

تِری مثال تو اے دوست! اس شجر کی ہے

Monday, 14 April 2025

وہی زمانہ وہی ماہ و سال اوڑھے ہیں

 وہی زمانہ وہی ماہ و سال اوڑھے ہیں

بہت دنوں سے تمہارا خیال اوڑھے ہیں

شعاع مہر نے مجھ سے کہا بہ وقت شام

عروج والے یہاں سب زوال اوڑھے ہیں

ادب سے بیٹھیے آ کر کے ہم فقیروں میں

یہاں کے ٹاٹ نشیں سب کمال اوڑھے ہیں

Sunday, 21 February 2021

عجب ہوا کہ پرندے اڑان بھول گئے

عجب ہوا کہ پرندے اُڑان بھُول گئے

زمیں پہ رہنے لگے آسمان بھول گئے

ضرورتوں نے کچھ ایسا بنا دیا پاگل

ہم اپنا نام و نسب، خاندان بھول گئے

جب اس نے چاند ہتھیلی سے چھُو دیا مجھ کو

سفر کی جو بھی تھی ساری تکان بھول گئے