شوقِ جنوں نے دل کو قلندر بنا دیا
پھر اس کو حسرتوں کا سمندر بنا دیا
دل سے نکالتے نہیں اک پَل صنم یہ لوگ
ان عاشقوں نے کعبے کو مندر بنا دیا
جب سے مِرے خیال کی دنیا میں تو بسا
میرے تخیلات کو سُندر بنا دیا
شوقِ جنوں نے دل کو قلندر بنا دیا
پھر اس کو حسرتوں کا سمندر بنا دیا
دل سے نکالتے نہیں اک پَل صنم یہ لوگ
ان عاشقوں نے کعبے کو مندر بنا دیا
جب سے مِرے خیال کی دنیا میں تو بسا
میرے تخیلات کو سُندر بنا دیا
لاحق ہوا یہ عشق تو پھر کچھ نہ کر سکے
دورِ جدید کے یہ طریقے علاج کے
میں نے نگر نگر کی یونہی خاک چھان لی
انساں نہ مل سکے مجھے اپنے مزاج کے
مجھ کو ہے زندگی سے یہ نفرت شدید تر
مجھ سے نہیں سنبھلتے بکھیرے سماج کے
پھر مِرا اشک بہانے کو جی چاہا
پھر مِرا سوگ منانے کو جی چاہا
کب سے سویا ہے مِرا غم ہنسی اوڑے
پھر مِرا اس کو جگانے کو جی چاہا
میں نکل آئی تھی ماضی سے تو کب کی
پھر کیوں لوٹ کے جانے کو جی چاہا
ظلمتِ ہجر میں انوار کا ہونا مشکل
دشت کی ریت پہ گلزار کا ہونا مشکل
عشق کی راہ میں اب رکھ تو دیا دل ہم نے
لیکن اس وصف کے اقرار کا ہونا مشکل
خار ٹیلے ہوں کہ طوفاں ہوں سفر میں اپنے
اب تو اس نہج پہ غمخوار کا ہونا مشکل
گھائل ہوئی ہوں عشق میں اقرار کیا کروں
برباد چمن کو ارے گلزار کیا کروں
اک درد سا چھپا ہے مِرے قلب و روح میں
لب کو خبر نہیں تو میں اظہار کیا کروں
ہوتا ہے شب و روز ہی دل میں ملال سا
بدلے نہیں نصیب دلِ زار کیا کروں
کوئی نوحہ سنائی دے رہا ہے
غم یوں دل میں دہائی دے رہا ہے
فرقتوں کی طویل شاموں میں
درد ہنستا دکھائی دے رہا ہے
وہ نہ لوٹے گا کیسے مانے دل
نامہ بر کیوں ہوائی دے رہا ہے
تمہارے ہجر میں ہر شام محوِ رقص رہے
خمارِ یاد کے سب جام محو رقص رہے
بھلا کے ہستی کو اپنی ہم ایسے مست ہوئے
جنونِ شوق میں ہر گام محو رقص رہے
نظر میں کیسے سماتے نشاط کے لمحے
ہمارے گرد تو آلام محو رقص رہے
درد کو اکسیر کر کے جھوم جا
قلب کو دلگیر کر کے جھوم جا
ظلمتوں کی رات میں سورج سمیٹ
تیرگی تنویر کر کے جھوم جا
قرب کی خاطر ہمیشہ زہر پی
دستِ دل کو ہیر کر کے جھوم جا