Showing posts with label سائرہ سائر. Show all posts
Showing posts with label سائرہ سائر. Show all posts

Sunday, 6 June 2021

شوق جنوں نے دل کو قلندر بنا دیا

 شوقِ جنوں نے دل کو قلندر بنا دیا

پھر اس کو حسرتوں کا سمندر بنا دیا

دل سے نکالتے نہیں اک پَل صنم یہ لوگ

ان عاشقوں نے کعبے کو مندر بنا دیا

جب سے مِرے خیال کی دنیا میں تو بسا

میرے تخیلات کو سُندر بنا دیا

Tuesday, 1 June 2021

لاحق ہوا یہ عشق تو پھر کچھ نہ کر سکے

 لاحق ہوا یہ عشق تو پھر کچھ نہ کر سکے

دورِ جدید کے یہ طریقے علاج کے

میں نے نگر نگر کی یونہی خاک چھان لی

انساں نہ مل سکے مجھے اپنے مزاج کے

مجھ کو ہے زندگی سے یہ نفرت شدید تر

مجھ سے نہیں سنبھلتے بکھیرے سماج کے

Monday, 31 May 2021

پھر مرا اشک بہانے کو جی چاہا

 پھر مِرا اشک بہانے کو جی چاہا

پھر مِرا سوگ منانے کو جی چاہا

کب سے سویا ہے مِرا غم ہنسی اوڑے

پھر مِرا اس کو جگانے کو جی چاہا

میں نکل آئی تھی ماضی سے تو کب کی

پھر کیوں لوٹ کے جانے کو جی چاہا

Sunday, 30 May 2021

ظلمت ہجر میں انوار کا ہونا مشکل

 ظلمتِ ہجر میں انوار کا ہونا مشکل

دشت کی ریت پہ گلزار کا ہونا مشکل

عشق کی راہ میں اب رکھ تو دیا دل ہم نے

لیکن اس وصف کے اقرار کا ہونا مشکل

خار ٹیلے ہوں کہ طوفاں ہوں سفر میں اپنے

اب تو اس نہج پہ غمخوار کا ہونا مشکل

Saturday, 29 May 2021

گھائل ہوئی ہوں عشق میں اقرار کیا کروں

 گھائل ہوئی ہوں عشق میں اقرار کیا کروں

برباد چمن کو ارے گلزار کیا کروں

اک درد سا چھپا ہے مِرے قلب و روح میں

لب کو خبر نہیں تو میں اظہار کیا کروں

ہوتا ہے شب و روز ہی دل میں ملال سا

بدلے نہیں نصیب دلِ زار کیا کروں

Friday, 28 May 2021

کوئی نوحہ سنائی دے رہا ہے

 کوئی نوحہ سنائی دے رہا ہے

غم یوں دل میں دہائی دے رہا ہے

فرقتوں کی طویل شاموں میں

درد ہنستا دکھائی دے رہا ہے

وہ نہ لوٹے گا کیسے مانے دل

نامہ بر کیوں ہوائی دے رہا ہے

Saturday, 1 May 2021

تمہارے ہجر میں ہر شام محو رقص رہے

 تمہارے ہجر میں ہر شام محوِ رقص رہے

خمارِ یاد کے سب جام محو رقص رہے

بھلا کے ہستی کو اپنی ہم ایسے مست ہوئے

جنونِ شوق میں ہر گام محو رقص رہے

نظر میں کیسے سماتے نشاط کے لمحے

ہمارے گرد تو آلام محو رقص رہے

Thursday, 7 January 2021

درد کو اکسیر کر کے جھوم جا

 درد کو اکسیر کر کے جھوم جا

قلب کو دلگیر کر کے جھوم جا

ظلمتوں کی رات میں سورج سمیٹ

تیرگی تنویر کر کے جھوم جا

قرب کی خاطر ہمیشہ زہر پی

دستِ دل کو ہیر کر کے جھوم جا