Showing posts with label کاشف سجاد. Show all posts
Showing posts with label کاشف سجاد. Show all posts

Sunday, 2 January 2022

قصے مری وحشت کے جو مرقوم ہیں سارے

 قصے مِری وحشت کے جو مرقوم ہیں سارے

آ، دیکھ تِرے نام سے موسوم ہیں سارے 

ہر جرم مِری ذات سے منسوب ہوا ہے

کیا میرے سوا شہر میں معصوم ہیں سارے 

اس واسطے ہر کام ادھورا ہی پڑا ہے

خادم بھی مِرے دیس کے مخدوم ہیں سارے

Tuesday, 16 November 2021

اپنوں کی طرح ظلم پرایا نہیں کرتا

 اپنوں کی طرح ظلم پرایا نہیں کرتا

مشکل بھی پڑے، چھوڑ کے جایا نہیں کرتا

بکھرا ہوں ہوا سے تو سمیٹا بھی ہوا نے

بے وجہ میں الزام لگایا نہیں کرتا

چڑھتے ہوئے سورج کے پجاری ذرا سن لیں

سورج کسی سر پر کبھی سایا نہیں کرتا

Thursday, 28 October 2021

وہ لفظ محمد ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام

وہ لفظ محمدﷺ ہے


قرطاس کے چہرے پر

اک لفظ لکھا میں نے

اس لفظ کی خوشبو سے

قرطاس معطر ہے

اس نام کی کرنوں سے

Monday, 25 October 2021

جو لوگ وفاؤں کی ردا ڈھونڈ رہے ہیں

 جو لوگ وفاؤں کی ردا ڈھونڈ رہے ہیں

پاگل ہیں خلاؤں میں ہوا ڈھونڈ رہے ہیں

اس کام سے لوگوں کو تو فرصت ہی نہیں ہے

ہے کون یہاں کتنا برا ڈھونڈ رہے ہیں

اب تک جنہیں انسان کی پہچان نہیں ہے

حیراں ہوں وہی لوگ خدا ڈھونڈ رہے ہیں 

Wednesday, 8 September 2021

زندگی یوں بھی تجھے صرف ہنر کرتے رہے

 زندگی یوں بھی تجھے صرفِ ہنر کرتے رہے

ہم کہ گم گشتہ جزیروں کا سفر کرتے رہے

گر گئے جلد ہی تعمیر جو گھر کرتے رہے

کام معمار کا تھا، آئینہ گر کرتے رہے

اب بھی نالاں ہے اگر ہم سے تو یہ مرضی تیری

لمحہ لمحہ تجھے موسم کی خبر کرتے رہے

Monday, 6 September 2021

گرچہ تنہائی کے آسیب سے ڈر لگتا ہے

 گرچہ تنہائی کے آسیب سے ڈر لگتا ہے

پھر بھی اچھا مجھے اپنا ہی یہ گھر لگتا ہے

اس نے ایسے ہی نہیں جان بھی واری تم پر

سر کے سودے میں تو سنتے ہیں کہ سر لگتا ہے

جانے اب کون سی بستی سے گزر ہے میرا

جس کو دیکھا ہے وہی محوِ سفر لگتا ہے