قصے مِری وحشت کے جو مرقوم ہیں سارے
آ، دیکھ تِرے نام سے موسوم ہیں سارے
ہر جرم مِری ذات سے منسوب ہوا ہے
کیا میرے سوا شہر میں معصوم ہیں سارے
اس واسطے ہر کام ادھورا ہی پڑا ہے
خادم بھی مِرے دیس کے مخدوم ہیں سارے
قصے مِری وحشت کے جو مرقوم ہیں سارے
آ، دیکھ تِرے نام سے موسوم ہیں سارے
ہر جرم مِری ذات سے منسوب ہوا ہے
کیا میرے سوا شہر میں معصوم ہیں سارے
اس واسطے ہر کام ادھورا ہی پڑا ہے
خادم بھی مِرے دیس کے مخدوم ہیں سارے
اپنوں کی طرح ظلم پرایا نہیں کرتا
مشکل بھی پڑے، چھوڑ کے جایا نہیں کرتا
بکھرا ہوں ہوا سے تو سمیٹا بھی ہوا نے
بے وجہ میں الزام لگایا نہیں کرتا
چڑھتے ہوئے سورج کے پجاری ذرا سن لیں
سورج کسی سر پر کبھی سایا نہیں کرتا
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
وہ لفظ محمدﷺ ہے
قرطاس کے چہرے پر
اک لفظ لکھا میں نے
اس لفظ کی خوشبو سے
قرطاس معطر ہے
اس نام کی کرنوں سے
جو لوگ وفاؤں کی ردا ڈھونڈ رہے ہیں
پاگل ہیں خلاؤں میں ہوا ڈھونڈ رہے ہیں
اس کام سے لوگوں کو تو فرصت ہی نہیں ہے
ہے کون یہاں کتنا برا ڈھونڈ رہے ہیں
اب تک جنہیں انسان کی پہچان نہیں ہے
حیراں ہوں وہی لوگ خدا ڈھونڈ رہے ہیں
زندگی یوں بھی تجھے صرفِ ہنر کرتے رہے
ہم کہ گم گشتہ جزیروں کا سفر کرتے رہے
گر گئے جلد ہی تعمیر جو گھر کرتے رہے
کام معمار کا تھا، آئینہ گر کرتے رہے
اب بھی نالاں ہے اگر ہم سے تو یہ مرضی تیری
لمحہ لمحہ تجھے موسم کی خبر کرتے رہے
گرچہ تنہائی کے آسیب سے ڈر لگتا ہے
پھر بھی اچھا مجھے اپنا ہی یہ گھر لگتا ہے
اس نے ایسے ہی نہیں جان بھی واری تم پر
سر کے سودے میں تو سنتے ہیں کہ سر لگتا ہے
جانے اب کون سی بستی سے گزر ہے میرا
جس کو دیکھا ہے وہی محوِ سفر لگتا ہے