قصے مِری وحشت کے جو مرقوم ہیں سارے
آ، دیکھ تِرے نام سے موسوم ہیں سارے
ہر جرم مِری ذات سے منسوب ہوا ہے
کیا میرے سوا شہر میں معصوم ہیں سارے
اس واسطے ہر کام ادھورا ہی پڑا ہے
خادم بھی مِرے دیس کے مخدوم ہیں سارے
اب کون تِرے پاؤں کی زنجیر کو کھولے
حاکم تِری بستی کے بھی محکوم ہیں سارے
یہ ظرف ہے اس کا کہ وہ خاموش ہے اب تک
کاشف کو تِرے عیب بھی معلوم ہیں سارے
کاشف سجاد
No comments:
Post a Comment