محبت بھول جاؤں گی، شرافت بھول جاؤں گی
میں عورت ہوں مگر اپنی نزاکت بھول جاوں گی
اگر تم اس طرح مجھ کو بھری محفل میں بولو گے
میں اپنے نرم لہجے کی وہ عادت بھول جاوں گی
اسی دنیا میں رہتی ہوں سمجھتی ہوں میں دنیا کو
کوئی سمجھے نہ یہ دنیا کی فطرت بھول جاؤں گی
بھروسہ جلد کرتی ہوں بری عادت ہے یہ میری
مگر اب سوچتی ہوں اپنی عادت بھول جاؤں گی
ضروری تو نہیں دنیا میں تم ہی تم نظر آؤ
میں آنکھیں بند کر لوں گی بصارت بھول جاؤں گی
مسیحا ہوں مجھے ہے ناز اپنے ایسے جینے پر
مسیحائی کی اپنی کیسے خصلت بھول جاؤں گی
مجھے شعر و سخن نے عکس بخشی ہے بڑی عزت
بھلا احباب کی کیسے عنایت بھول جاؤں گی
لبنیٰ عکس
No comments:
Post a Comment