دل کو پابند رنگ و بُو کر کے
آبرُو کھوئی آرزُو کر کے
خود کو کھو بیٹھے اپنے ہاتھوں سے
کیا ملا ان کی جستجُو کر کے
خدمتِ خلق سے ہوئے مخدوم
آبرُو پائی آبرُو کر کے
دل کو پابند رنگ و بُو کر کے
آبرُو کھوئی آرزُو کر کے
خود کو کھو بیٹھے اپنے ہاتھوں سے
کیا ملا ان کی جستجُو کر کے
خدمتِ خلق سے ہوئے مخدوم
آبرُو پائی آبرُو کر کے
ہم آستانۂ پیرِ مغاں سے آتے ہیں
کہ لامکاں سے بھی اونچے مکاں سے آتے ہیں
ہماری جان فدا جس کے اک اشارے پر
ہم اپنی جان کے اس پاسباں سے آتے ہیں
میں تجھ پہ جان سے صدقے تصورِ جاناں
مِری لحد میں یہ جلوے کہاں سے آتے ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بحمداللہ کہ عالم میں وہ نورالعالمیں آئے
ضیائے مُرسلیں آئے، بنائے صادقیں آئے
فروغ نُور حق محبوبِ رب العالمیں آئے
وہ نور اولیں کا آخری نُورِ مبیں آئے
شہ اُمی لقب بن کے رسول فاضلیں آئے
وہ علمناہ من اللدنا کے عین الیقیں آئے
جہان رنگ و بُو کی جان رُوح العالمیں آئے
یہ مسجد مندر مے خانے کوئی یہ مانے کوئی وہ مانے
سب جاناں ہیں تیرے کاشانے کوئی یہ مانے کوئی وہ مانے
اک ہست کا تیرے قائل ہے انکار پہ کوئی مائل ہے
اصلیت لیکن تو جانے کوئی یہ مانے کوئی وہ مانے
اک خلق میں شامل کرتا ہے اک سب سے اکیلا کہتا ہے
ہیں دونوں تیرے مستانے کوئی یہ مانے کوئی وہ مانے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تیری تعریف کیسے کروں میں بیاں میری طاقت ہے کیا، میں تو کچھ بھی نہیں
مہر و ذرّے میں نسبت تو ہوتی ہے کچھ، مجھ کو نسبت ہے کیا میں تو کچھ بھی نہیں
میرے وہم و گمان سے بھی باہر ہے تُو میں تو قطرہ نہیں اور بے کنار سمندر ہے تُو
تیرا سودا ہوا مجھ کو یہ ہستی کہاں دل کی وسعت ہے کیا میں تو کچھ بھی نہیں
تُو سمایا جو مجھ میں ترا کام ہے، میری ہستی ہے کچھ تو تیرا نام ہے
تیری رحمت نے رتبہ یہ بخشا مجھے میری جرأت ہے کیا میں تو کچھ بھی نہیں
تِرے درد کی کہانی مِرا راز زندگانی
تِرے حسن کا فسانہ ہے مِرا غم نہانی
مِرا راز ہے اگر تُو تو میں ہوں تیری نشانی
نہ تِری حیات فانی، نہ مِری حیات فانی
کروں دید کی طلب کیوں سنوں کیوں میں لن ترانی
ہے ابھی مِری نظر میں وہ ادائے من رآنی
پاؤں نہ دُور دُور بھی اپنی خبر کو میں
پھر ڈُھونڈتا ہوں آپ کی پہلی نظر کو میں
اِک اِک نگاہ میں سینکڑوں تیروں کے وار ہیں
رکھوں کہاں سنبھال کے قلب و جگر کو میں
ایسا تلاشِ یار میں گُم ہو گیا ہوں میں
آؤں گا اب نظر کسی اہلِ نظر کو میں