Showing posts with label حیرت شاہ وارثی. Show all posts
Showing posts with label حیرت شاہ وارثی. Show all posts

Tuesday, 16 June 2026

آبرو کھوئی آرزو کر کے

 دل کو پابند رنگ و بُو کر کے

آبرُو کھوئی آرزُو کر کے

خود کو کھو بیٹھے اپنے ہاتھوں سے

کیا ملا ان کی جستجُو کر کے

خدمتِ خلق سے ہوئے مخدوم

آبرُو پائی آبرُو کر کے

Monday, 15 June 2026

ہم آستانۂ پیر مغاں سے آتے ہیں

 ہم آستانۂ پیرِ مغاں سے آتے ہیں

کہ لامکاں سے بھی اونچے مکاں سے آتے ہیں

ہماری جان فدا جس کے اک اشارے پر

ہم اپنی جان کے اس پاسباں سے آتے ہیں

میں تجھ پہ جان سے صدقے تصورِ جاناں

مِری لحد میں یہ جلوے کہاں سے آتے ہیں

Thursday, 31 July 2025

بحمداللہ کہ عالم میں وہ نورالعالمیں آئے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


بحمداللہ کہ عالم میں وہ نورالعالمیں آئے

ضیائے مُرسلیں آئے، بنائے صادقیں آئے

فروغ نُور حق محبوبِ رب العالمیں آئے

وہ نور اولیں کا آخری نُورِ مبیں آئے

شہ اُمی لقب بن کے رسول فاضلیں آئے

وہ علمناہ من اللدنا کے عین الیقیں آئے

جہان رنگ و بُو کی جان رُوح العالمیں آئے

Thursday, 19 June 2025

یہ مسجد مندر مے خانے کوئی یہ مانے کوئی وہ مانے

 یہ مسجد مندر مے خانے کوئی یہ مانے کوئی وہ مانے

سب جاناں ہیں تیرے کاشانے کوئی یہ مانے کوئی وہ مانے

اک ہست کا تیرے قائل ہے انکار پہ کوئی مائل ہے

اصلیت لیکن تو جانے کوئی یہ مانے کوئی وہ مانے

اک خلق میں شامل کرتا ہے اک سب سے اکیلا کہتا ہے

ہیں دونوں تیرے مستانے کوئی یہ مانے کوئی وہ مانے

Saturday, 14 December 2024

تیری تعریف کیسے کروں میں بیاں میری طاقت ہے کیا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


تیری تعریف کیسے کروں میں بیاں میری طاقت ہے کیا، میں تو کچھ بھی نہیں

مہر و ذرّے میں نسبت تو ہوتی ہے کچھ، مجھ کو نسبت ہے کیا میں تو کچھ بھی نہیں

میرے وہم و گمان سے بھی باہر ہے تُو میں تو قطرہ نہیں اور بے کنار سمندر ہے تُو

تیرا سودا ہوا مجھ کو یہ ہستی کہاں دل کی وسعت ہے کیا میں تو کچھ بھی نہیں

تُو سمایا جو مجھ میں ترا کام ہے، میری ہستی ہے کچھ تو تیرا نام ہے

تیری رحمت نے رتبہ یہ بخشا مجھے میری جرأت ہے کیا میں تو کچھ بھی نہیں

Saturday, 7 December 2024

ترے درد کی کہانی مرا راز زندگانی

 تِرے درد کی کہانی مِرا راز زندگانی

تِرے حسن کا فسانہ ہے مِرا غم نہانی

مِرا راز ہے اگر تُو تو میں ہوں تیری نشانی

نہ تِری حیات فانی، نہ مِری حیات فانی

کروں دید کی طلب کیوں سنوں کیوں میں لن ترانی

ہے ابھی مِری نظر میں وہ ادائے من رآنی

Friday, 6 December 2024

پاؤں نہ دور دور بھی اپنی خبر کو میں

 پاؤں نہ دُور دُور بھی اپنی خبر کو میں

پھر ڈُھونڈتا ہوں آپ کی پہلی نظر کو میں

اِک اِک نگاہ میں سینکڑوں تیروں کے وار ہیں

رکھوں کہاں سنبھال کے قلب و جگر کو میں

ایسا تلاشِ یار میں گُم ہو گیا ہوں میں

آؤں گا اب نظر کسی اہلِ نظر کو میں