Showing posts with label حبیب کیفی. Show all posts
Showing posts with label حبیب کیفی. Show all posts

Wednesday, 15 December 2021

پہلے چاہت کو تیز کر لے گا

 پہلے چاہت کو تیز کر لے گا

پھر وہ مجھ سے گریز کر لے گا

مسکرائے گا بات کرتے ہوئے

بات یوں معنی خیز کر لے گا

دو قدم ساتھ وہ چلے گا پھر

اپنی رفتار تیز کر لے گا

Tuesday, 14 September 2021

اس کو دیکھا تو نام بھول گیا

 اس کو دیکھا تو نام بُھول گیا

پھر میں کرنا کلام بھول گیا

بھول کر وہ بھی سب گلے آیا

میں بھی شکوے تمام بھول گیا

اس کی آنکھوں کی بات ایسی چھڑی

میں اٹھانا ہی جام بھول گیا

Friday, 10 September 2021

کیا ہو گا جب مر جائیں گے

 کیا ہو گا جب مر جائیں گے

اپنے اپنے گھر جائیں گے

بات کو پوشیدہ رہنے دے

بات کُھلی تو سر جائیں گے

قتل کیۓ دو چار تو سوچا

ہم بھی تجھ سے ڈر جائیں گے

Wednesday, 8 September 2021

بچھڑو تو یہ دھیان رکھنا

 بچھڑو تو یہ دھیان رکھنا

ملنے کا امکان رکھنا

بات اثر گہرا کرتی ہے

لفظوں میں کچھ جان رکھنا

ملنے جب جانا ہو اس سے

راستہ سنسان رکھنا

Saturday, 8 May 2021

کئی دنوں سے اسے مجھ سے کوئی کام نہیں

 کئی دنوں سے اسے مجھ سے کوئی کام نہیں

یہی سبب ہے کہ مجھ سے دعا سلام نہیں

ابھی سفر میں ہوں چلنا مِرا مقدر ہے

پہنچ گیا ہوں جہاں وہ مِرا مقام نہیں

فضا کثیف کیے جا رہے ہیں لوگ مگر

لگاتا ان پہ یہاں پر کوئی نظام نہیں

Saturday, 6 March 2021

جو ملنے آتا ہے مل کر جدا بھی ہوتا ہے

 جو ملنے آتا ہے مل کر جدا بھی ہوتا ہے

وہ خوش مزاج ہے لیکن خفا بھی ہوتا ہے

میں اس حسین کو یہ بات کیسے سمجھاؤں

جو بہترین ہے اس سے سوا بھی ہوتا ہے

تمہاری بات کا میں نے برا کہاں مانا

جو اپنا ہوتا ہے اس سے گِلہ بھی ہوتا ہے