پہلے چاہت کو تیز کر لے گا
پھر وہ مجھ سے گریز کر لے گا
مسکرائے گا بات کرتے ہوئے
بات یوں معنی خیز کر لے گا
دو قدم ساتھ وہ چلے گا پھر
اپنی رفتار تیز کر لے گا
پہلے چاہت کو تیز کر لے گا
پھر وہ مجھ سے گریز کر لے گا
مسکرائے گا بات کرتے ہوئے
بات یوں معنی خیز کر لے گا
دو قدم ساتھ وہ چلے گا پھر
اپنی رفتار تیز کر لے گا
اس کو دیکھا تو نام بُھول گیا
پھر میں کرنا کلام بھول گیا
بھول کر وہ بھی سب گلے آیا
میں بھی شکوے تمام بھول گیا
اس کی آنکھوں کی بات ایسی چھڑی
میں اٹھانا ہی جام بھول گیا
کیا ہو گا جب مر جائیں گے
اپنے اپنے گھر جائیں گے
بات کو پوشیدہ رہنے دے
بات کُھلی تو سر جائیں گے
قتل کیۓ دو چار تو سوچا
ہم بھی تجھ سے ڈر جائیں گے
بچھڑو تو یہ دھیان رکھنا
ملنے کا امکان رکھنا
بات اثر گہرا کرتی ہے
لفظوں میں کچھ جان رکھنا
ملنے جب جانا ہو اس سے
راستہ سنسان رکھنا
کئی دنوں سے اسے مجھ سے کوئی کام نہیں
یہی سبب ہے کہ مجھ سے دعا سلام نہیں
ابھی سفر میں ہوں چلنا مِرا مقدر ہے
پہنچ گیا ہوں جہاں وہ مِرا مقام نہیں
فضا کثیف کیے جا رہے ہیں لوگ مگر
لگاتا ان پہ یہاں پر کوئی نظام نہیں
جو ملنے آتا ہے مل کر جدا بھی ہوتا ہے
وہ خوش مزاج ہے لیکن خفا بھی ہوتا ہے
میں اس حسین کو یہ بات کیسے سمجھاؤں
جو بہترین ہے اس سے سوا بھی ہوتا ہے
تمہاری بات کا میں نے برا کہاں مانا
جو اپنا ہوتا ہے اس سے گِلہ بھی ہوتا ہے