Wednesday, 8 September 2021

بچھڑو تو یہ دھیان رکھنا

 بچھڑو تو یہ دھیان رکھنا

ملنے کا امکان رکھنا

بات اثر گہرا کرتی ہے

لفظوں میں کچھ جان رکھنا

ملنے جب جانا ہو اس سے

راستہ سنسان رکھنا

اچھا ہے منہ بند رہے تو

جسم کو لیکن کان رکھنا

وہ جب حیراں کرنے آئے

اس کو بھی حیران رکھنا

اور کسی پر ہو نہ ہو پر

خود پر تو ایمان رکھنا

سامنے ہو جب فرشتے

خود کو تم انسان رکھنا

ہم دونوں کے افسانے کا

اچھا سا عنوان رکھنا

وقت ضرورت کام آئے جو

ایسا بھی سامان رکھنا


حبیب کیفی

No comments:

Post a Comment