بچھڑو تو یہ دھیان رکھنا
ملنے کا امکان رکھنا
بات اثر گہرا کرتی ہے
لفظوں میں کچھ جان رکھنا
ملنے جب جانا ہو اس سے
راستہ سنسان رکھنا
اچھا ہے منہ بند رہے تو
جسم کو لیکن کان رکھنا
وہ جب حیراں کرنے آئے
اس کو بھی حیران رکھنا
اور کسی پر ہو نہ ہو پر
خود پر تو ایمان رکھنا
سامنے ہو جب فرشتے
خود کو تم انسان رکھنا
ہم دونوں کے افسانے کا
اچھا سا عنوان رکھنا
وقت ضرورت کام آئے جو
ایسا بھی سامان رکھنا
حبیب کیفی
No comments:
Post a Comment