Wednesday, 8 September 2021

میں زندگی کا نقشہ ترتیب دے رہا ہوں

 میں زندگی کا نقشہ ترتیب دے رہا ہوں

پھر اک جدید خاکہ ترتیب دے رہا ہوں

ہر ساز کا ترنم یکسانیت نما ہے

اک تازہ کارِ نغمہ ترتیب دے رہا ہوں

جس میں تِری تجلی خود آ کے جاگزیں ہو

دل میں اک ایسا گوشہ ترتیب دے رہا ہوں

لمحوں کے سلسلے میں جیتا رہا ہوں لیکن

میں اپنا خاص لمحہ ترتیب دے رہا ہوں

کتنے عجیب قصے لکھے گئے ابھی تک

میں بھی انوکھا قصہ ترتیب دے رہا ہوں

ذروں کا ہے یہ طوفاں بے چہرگی بداماں

ذروں سے ایک چہرہ ترتیب دے رہا ہوں

دنیا کے سارے رشتے بے معنی لگ رہے ہیں

خالق سے اپنا رشتہ ترتیب دے رہا ہوں

پُر پیچ راستوں پر چلتا ہوا ظفر میں

سیدھا سا ایک رستہ ترتیب دے رہا ہوں


ظفر حمیدی

No comments:

Post a Comment