Showing posts with label عبید نیازی. Show all posts
Showing posts with label عبید نیازی. Show all posts

Wednesday, 25 June 2025

اگرچہ خود کو ہجوموں کے بیچ رکھتا ہوں

 اگرچہ خود کو ہجوموں کے بیچ رکھتا ہُوں

جو سچ کہوں تو میں اُس کے بغیر تنہا ہوں

مجھے جہاں بھی وہ چاہے بہا کے لے جائے

وہ موجِ آب ہے اور میں نحیف تنکا ہوں

کئی برس سے نہیں ہوسکی مری تکمیل

میں ایک شخص کے اچھے دنوں کا وعدہ ہوں

Tuesday, 18 March 2025

ہر گھڑی نور کی بارش میں نہایا ہوا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت 


ہر گھڑی نور کی بارش میں نہایا ہوا ہے

جس نے ہونٹوں پہ درودوں کو سجایا ہوا ہے

کتنی صدیوں سے ثمر بار بھی ہے تازہ بھی

تُو نے ہاتھوں سے جو اک پیڑ لگایا ہوا ہے

اے حسینوں کے حسیں، اے شہِ فیاض دِلاں

اک بھکاری تِرےﷺ دیدار کو آیا ہوا ہے

Saturday, 28 September 2024

تپش کو مٹا دے فضائیں سجا دے

شفاعت


تپش کی فضا ہے

ذرا سی بلندی پہ وحشی الاؤ جلایا گیا ہے

پرانی سی مٹی کا ادنٰی سا ڈھیلا

کسی آتشی دھات سے پُر زمیں پر پڑا سوچتا ہے

کہ اس کا دوامی ٹھکانہ کہاں ہے

وہ کیا اب ہمیشہ تپش کے تنوروں کا ایندھن بنے گا

Monday, 16 September 2024

جہان بھر کی کتابوں میں جو بھی اچھا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جہان بھر کی کتابوں میں جو بھی اچھا ہے

مِرے لیے تو یقیناً وہ ذکر تیراﷺ ہے

شدید دھوپ ہے، اور سائے جھُوٹے سائے ہیں

اُس ایک زُلف کے نیچے ہی اصل سایہ ہے

عجیب نرم ہے غیروں سے گُفتگو کے وقت

وہ غیر ہوتے ہوئے بھی لگے کہ اپنا ہے

Thursday, 12 September 2024

زندگی در در پھری ہر سمت اور ہر جا گئی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


زندگی در در پھری، ہر سمت اور ہر جا گئی

آخرش رازِ سعادت ایک در سے پا گئی

کس قدر عالی مراتب ہستیاں آئِیں مگر

ایک ہستی اوّلیں اور آخریں پر چھا گئی

ایک ایسی روشنی نکلی تھی کوہِ نور سے

جو اندھیروں کو ہمیشہ کے لیے دفنا گئی

Wednesday, 11 September 2024

ظلمت کدے میں حامل نور مبین تھے

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


 ظُلمت کدے میں حاملِ نورِ مبین تھے

میرے رسولﷺ خوب وسیم و قسیم تھے

مہتاب رُو تھے اور کُشادہ جبین تھے

میرے رسولﷺ باعثِ تخلیقِ حُسن تھے

اب اور کیا کہوں کہ وہ کتنے حسین تھے

میرے رسولﷺ کے کسی دُشمن سے پوچھ لو

Tuesday, 10 September 2024

قابل رشک بھی ہوں قابل تردید بھی ہوں

قابلِ رشک بھی ہوں قابلِ تردید بھی ہوں

میں بیک وقت اندھیرا بھی ہوں خورشید بھی ہوں

میں ہی ہوں سیٹھ کی مغرور ہنسی میں پنہاں

میں ہی مزدور کی حسرت سے بھری دید بھی ہوں

ایک لمحے کو تو اندوہ بھری شب ہوں میں

دوسرے لمحے مسرّت سے سجی عید بھی ہوں

Tuesday, 21 September 2021

دشت کے بیچ میں تالاب نظر آتے ہیں

دشت کے بیچ میں تالاب نظر آتے ہیں

‎ہم غریبوں کو فقط خواب نظر آتے ہیں

‎چاندنی کھُل کے جو برسے کبھی صحراؤں میں

‎ریت کے ذرّے بھی مہتاب نظر آتے ہیں

‎جھونپڑے والے تو سوتے ہی نہیں ساون میں

‎سوئیں تو خواب میں سیلاب نظر آتے ہیں