Showing posts with label شریف کنجاہی. Show all posts
Showing posts with label شریف کنجاہی. Show all posts

Monday, 7 March 2022

گلزار میں وہ رت بھی کبھی آ کے رہے گی

 گلزار میں وہ رُت بھی کبھی آ کے رہے گی

جب کوئی کلی جور خزاں کے نہ سہے گی

انسان سے نفرت کے شرر بُجھ کے رہیں گے

صدیوں کی یہ دیوار کسی دن تو ڈھے گی

جس باپ نے اولاد کی بہبود نہ سوچی

اس باپ کو اولاد عیاں ہے جو کہے گی

Sunday, 13 February 2022

کیوں جگاتے ہو مرے سینے میں امیدوں کو

 پسپائی


کیوں جگاتے ہو مِرے سینے میں امیدوں کو

رہنے دو اتنا نہ احسان کرو

میں تو پردیسی ہوں اور آئی ہوں دو دن کے لیے

کل چلی جاؤں گی یا پرسوں چلی جاؤں گی

اور پھر آنے کا امکان نہیں

Wednesday, 24 February 2021

جو اپنے سر پہ سر شاخ آشیاں گزری

 جو اپنے سر پہ سرِ شاخ آشیاں گزری

کسی کے سر پہ قفس میں بھی وہ کہاں گزری

اسی کی یاد ہے مہتاب شام ہائے فراق

وہ ایک شب کہ سرِ کُوئے مہ وشاں گزری

جہاں میں شوق کبھی رائیگاں نہیں جاتا

میں کیوں کہوں کہ مِری عمر رائیگاں گزری

Tuesday, 23 February 2021

اب کسی شاخ پہ ہلتا نہیں پتہ کوئی

 اب کسی شاخ پہ ہِلتا نہیں پتہ کوئی

دشت سے عمر ہوئی گزرا نہ جھونکا کوئی

لب پہ فریاد نہ ہے آنکھ میں قطرہ کوئی

وادئ شب میں نہیں ہم سفر اپنا کوئی

خندۂ موج مِری تشنہ لبی نے جانا

ریت کا تپتا ہوا دیکھ کے ذرہ کوئی

Monday, 23 November 2015

تو سمجھتا ہے تو خود تیری نظر گہری نہیں

تُو سمجھتا ہے تو خود تیری نظر گہری نہیں
ورنہ بنیادِ خزاں، اے بے خبر! گہری نہیں
وصلِ شیریں ہے نہ جوئے شیر ہے تیرے نصیب
ضرب اے فرہاد! تیشے کی اگر گہری نہیں
یہ بھی ممکن ہے کہ خود تیری نوا ہو نرم خیز
نیند لوگوں کی تو اے مرغِ سحر! گہری نہیں

تلاش جن کی ہے وہ دن ضرور آئیں گے

تلاش جن کی ہے وہ دن ضرور آئیں گے
یہ اور بات سہی، ہم نہ دیکھ پائیں گے
یقیں تو ہے کہ کھلے گا، نہ کھل سکا بھی اگر
درِ بہار پہ دستک دئیے ہی جائیں گے
غنودہ راہوں کو تک تک کے سوگوار نہ ہو
تِرے قدم ہی مسافر! انہیں جگائیں گے

فضائے صحن گلستاں ہے سوگوار ابھی

فضائے صحنِ گلستاں ہے سوگوار ابھی
خزاں کی قید میں ہے یوسفِ بہار ابھی
ابھی چمن پہ چمن کا گماں نہیں ہوتا
قبائے غنچہ کو ہونا ہے تار تار ابھی
ابھی ہے خندۂ گل بھی اگر تو زیر لبی
رکا رکا سا ہے کچھ نغمۂ ہزار ابھی