گلزار میں وہ رُت بھی کبھی آ کے رہے گی
جب کوئی کلی جور خزاں کے نہ سہے گی
انسان سے نفرت کے شرر بُجھ کے رہیں گے
صدیوں کی یہ دیوار کسی دن تو ڈھے گی
جس باپ نے اولاد کی بہبود نہ سوچی
اس باپ کو اولاد عیاں ہے جو کہے گی
گلزار میں وہ رُت بھی کبھی آ کے رہے گی
جب کوئی کلی جور خزاں کے نہ سہے گی
انسان سے نفرت کے شرر بُجھ کے رہیں گے
صدیوں کی یہ دیوار کسی دن تو ڈھے گی
جس باپ نے اولاد کی بہبود نہ سوچی
اس باپ کو اولاد عیاں ہے جو کہے گی
پسپائی
کیوں جگاتے ہو مِرے سینے میں امیدوں کو
رہنے دو اتنا نہ احسان کرو
میں تو پردیسی ہوں اور آئی ہوں دو دن کے لیے
کل چلی جاؤں گی یا پرسوں چلی جاؤں گی
اور پھر آنے کا امکان نہیں
جو اپنے سر پہ سرِ شاخ آشیاں گزری
کسی کے سر پہ قفس میں بھی وہ کہاں گزری
اسی کی یاد ہے مہتاب شام ہائے فراق
وہ ایک شب کہ سرِ کُوئے مہ وشاں گزری
جہاں میں شوق کبھی رائیگاں نہیں جاتا
میں کیوں کہوں کہ مِری عمر رائیگاں گزری
اب کسی شاخ پہ ہِلتا نہیں پتہ کوئی
دشت سے عمر ہوئی گزرا نہ جھونکا کوئی
لب پہ فریاد نہ ہے آنکھ میں قطرہ کوئی
وادئ شب میں نہیں ہم سفر اپنا کوئی
خندۂ موج مِری تشنہ لبی نے جانا
ریت کا تپتا ہوا دیکھ کے ذرہ کوئی