قومِ مُسلم سے خطاب
قومِ مُسلم تجھے سرکار رسالتﷺ کی قسم
کیا ہُوا تجھ کو بتا گردشِ قسمت کی قسم
تُو نے کھائی تھی مساوات و اخوّت کی قسم
آج کھاتی ہے وفادارئ دولت کی قسم
تُو نے کیوں جاہ پرستی کا سبق سیکھ لیا
کیوں شہنشاہ پرستی کا سبق سیکھ لیا؟
تازیانہ تیری غیرت کو ہے وہ خُون کی دھار
جس پہ نازاں ہے رگ جان رسولِﷺ مختار
جس کی گرمی سے لہکتا ہے اُفق کا گُلزار
جس سے اسلام میں پھُولی شفق صُبح بہار
مسندِ قُدس پہ ہے حاشیہ بندی جس کی
حوصلہ احمدﷺ مُرسل کا بلندی جس کی
تُو نے سوچا بھی کبھی فلسفۂ ذبحِ عظیم
کیوں ہوا تیغ بہ کف زاہد قانع بہ گلیم
لعنت جاہ پرستی میں تھا سارا اقلیم
اُمتِ صاحبِ مُرسلؐ کا صنم تھا دیہیم
بس جو وارث تھا جلال اسد اللہی کا
اس سے دیکھا نہ گیا کِبر شہنشاہی کا
اجتبیٰ رضوی
No comments:
Post a Comment