Tuesday, 6 October 2026

فرصت مرہمی نہ تھی زخم چھلا چھلا رہا

 فرصتِ مرہمی نہ تھی، زخم چِھلا، چِھلا رہا

صبح سے شام تک وہی کام کا سِلسلہ رہا

ذہن میں وحشتیں نہ ہوں، دل تو ہو پر زِ درد و غم

مانا کہ خام تھا جنوں، شوق بھی بے صِلہ رہا؟

جوشِ نمو بھی ہے بجا، لمحے بھی ہیں طرب فزا

خدشہ سا دل میں ہے کہ وقت، سَم تو نہیں پلا رہا

کہتے ہیں رات باد بھی، حد سے زیادہ تند تھی

مجھ کو بھی اپنے خون کی، تاب سے کچھ گلہ رہا

ذہن میں تو شروع سے، پیکرِ خوش تراش، تھا

لمحۂ دید، اے خوشا! فکر میں فن ملا رہا

جامہ دریدگی، جنوں، کیسے ہنر سے میں چھپائے

حرف لباسِ شعر میں، کیسا بجا سلا رہا

میری ہی نارسائی تھی، لمس ملا نہ باس آئی

اس سے تو کیا گلہ کروں، وہ سرِ دل، کھلا رہا


محمد منذر رضا

No comments:

Post a Comment