Showing posts with label اطہر عزیز. Show all posts
Showing posts with label اطہر عزیز. Show all posts

Monday, 26 April 2021

آگ لگا کر گھر کو جب خود گھر والا انجان بنے

 آگ لگا کر گھر کو جب خود گھر والا انجان بنے

اے لوگو پھر تم ہی بتاؤ کیوں نہ وہ گھر شمشان بنے

آج امیدوں کے مرگھٹ پر اڑتے ہیں آہوں کے گِدھ

جانے اسی مرگھٹ میں کل کن نغموں کا ایوان بنے

اس کے چہرے کی ریکھائیں میں بھی تو اک بار پڑھوں

کاش کبھی تو خوابوں ہی میں وہ میرا مہمان بنے

Monday, 19 April 2021

ساز سکوت شب ہوں نہ سوز رباب ہوں

 سازِ سکوتِ شب ہوں نہ سوزِ رباب ہوں

پڑھ لو مجھے کہ ایک سُلگتی کتاب ہوں

اے گردشِ مدام! نہ ہنس میرے حال پر

میں فصلِ نو بہار کا دُھندلا سا خواب ہوں

میں وہ سبق ہوں جو نہ کبھی یاد ہو سکا

جس کو زمانہ پڑھ نہ سکا، وہ نصاب ہوں

Thursday, 15 April 2021

دل تو برساتا ہے ہر روز ہی غم کے ساون

 دل تو برساتا ہے ہر روز ہی غم کے ساون

پھر بھی بجھتے نہیں یادوں کے سلگتے ایندھن

زندگی خوابوں کی چلمن میں یوں اٹھلاتی ہے

جیسے سکھیوں میں گھری ہو کوئی شرمیلی دلہن

اب تو ہر روز ہی اک آنچ نئی اٹھتی ہے

یہ مِرا جسم نہ بن جائے دہکتا مدفن

Saturday, 6 March 2021

ابھرا جو چاند اونگھتی پرچھائیاں ملیں

 ابھرا جو چاند اونگھتی پرچھائیاں ملیں

ہر روشنی کی گود میں تنہائیاں ملیں

شہرِ وفا میں ہم جو چلے آئے دفعتاً

ہر ہر قدم پہ درد کی شہنائیاں ملیں

غنچے ہنسے تو حسن کا کوسوں پتہ نہ تھا

روٹھی ہوئی کچھ ایسی بھی رعنائیاں ملیں

Tuesday, 8 December 2020

ابھرا جو چاند اونگھتی پرچھائیاں ملیں

 ابھرا جو چاند اونگھتی پرچھائیاں ملیں

ہر روشنی کی گود میں تنہائیاں ملیں

شہر وفا میں ہم جو چلے آئے دفعتاً

ہر ہر قدم پہ درد کی شہنائیاں ملیں

غنچے ہنسے تو حسن کا کوسوں پتہ نہ تھا

روٹھی ہوئی کچھ ایسی بھی رعنائیاں ملیں