Showing posts with label اسلم کولسری. Show all posts
Showing posts with label اسلم کولسری. Show all posts

Friday, 26 January 2024

قطرۂ آب آب میں خرم آدمی اپنے شہر میں تنہا

 ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/*ہائیکو/تروینی/ترائلے

دُنیا

قطرۂ آب آب میں خرم

ذرۂ خاک خاک میں رقصاں

آدمی اپنے شہر میں تنہا


اسلم کولسری

Friday, 5 January 2024

کیا گئے تم کہ پھر نہیں گزرا

 ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/*ہائیکو/تروینی/ترائلے

کیا گئے تم


کیا گئے تم کہ پھر نہیں گُزرا

میرے ویران گھر کے اُوپر سے

قافلہ دُودھیا چراغوں کا


اسلم کولسری

Wednesday, 27 December 2023

ڈھل گئی رات پھر دسمبر کی

 ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/*ہائیکو/تروینی/ترائلے

تو کیا جانے


ڈھل گئی رات پھر دسمبر کی

شیلف میں سو گئیں کتابیں تک

ایک تیرا خیال روشن ہے


اسلم کولسری

Wednesday, 15 November 2023

بنسری توڑ دی گڈرئیے نے کارخانے میں نوکری کر لی

 ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/*ہائیکو/تروینی/ترائلے

نوحہ


بنسری توڑ دی گڈرئیے نے

اور چُپکے سے شہر میں جا کر

کارخانے میں نوکری کر لی


اسلم کولسری

Tuesday, 14 March 2023

شہر نے پھر سے ایک گاؤں پر

ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے


شہر نے پھر سے ایک گاؤں پر

ایک کالی کمند پھینکی ہے

لوگ پکی سڑک کہتے ہیں


اسلم کولسری

Saturday, 25 June 2022

خیالوں ہی خیالوں میں نئی دنیا بساتا ہوں

 خیالوں ہی خیالوں میں نئی دنیا بساتا ہوں

مٹا کر نقشِ فرسودہ، نئے پیکر بناتا ہوں

محبت ہو تعلق ہو، کہ بس رسمی تعارف ہو

جو مجھ کو بھول جاتا ہے، میں اس کو بھول جاتا ہوں

بہت اچھی گزرتی ہے، جو ہمدم آ کے ملتے ہیں

کبھی میں دل کی سنتا ہوں، کبھی اپنی سناتا ہوں

Sunday, 23 May 2021

دیار ہجر میں خود کو تو اکثر بھول جاتا ہوں

 دیارِ ہجر میں خود کو تو اکثر بھُول جاتا ہوں

تجھے بھی میں تِری یادوں میں کھو کر بھول جاتا ہوں

عجب دن تھے کہ برسوں ضرب خوشبو یاد رہتی تھی

عجب دن ہیں کہ فوراً زخم خنجر بھول جاتا ہوں

گزر جاتا ہوں گھر کے سامنے سے بے خیالی میں

کبھی دفتر کے دروازے پہ دفتر بھول جاتا ہوں

Tuesday, 6 October 2020

دل دریا

 دل دریا


صلح کے زمانے میں

مجھ کو ایسا لگتا ہے

وہ اگر بچھڑ جائے

صرف اتنا دکھ ہو گا

جتنا آنکھ کھلنے پر

خواب ٹوٹ جانے کا

Monday, 5 October 2020

سانس کہانی پوری کی

 زخم سہے، مزدوری کی

سانس کہانی پوری کی

جذبے کی ہر کونپل کو

آگ لگی مجبوری کی

چپ آیا، چپ لوٹ گیا

گویا بات ضروری کی

Sunday, 4 October 2020

جب دل ہی نہیں باقی وہ آتشِ پارا سا

جب دل ہی نہیں باقی، وہ آتشِ پارا سا

کیوں رقص میں رہتا ہے پلکوں پہ شرارا سا

وہ موج ہمیں لے کر، گرداب میں جا نکلی

جس موج میں روشن تھا سرسبز کنارا سا

اک بام پہ، شام ڈھلے، رنگین چراغ جلے

کچھ دور اک پیڑ تلے، راگی تھکا ہارا سا

Friday, 2 October 2020

وقت نے ایسی کروٹ لی ہے ڈر لگتا ہے

وقت نے ایسی کروٹ لی ہے ڈر لگتا ہے

سوہنا چاند بکھر نہیں سکتا، پر لگتا ہے

آوارہ تنکے کی صورت عمر گزاری

بے گھر ہوں اور چپہ چپہ گھر لگتا ہے

مغرب کی زریں آغوش میں گرتا سورج

تیرے بام سے جانے کا منظر لگتا ہے

Thursday, 1 October 2020

منڈیروں پر دیے سے جل اٹھے ہیں

 منڈیروں پر دِیے سے جل اٹھے ہیں

اندھیروں میں، چلو ہم ڈوبتے ہیں

برابر ہے گھٹا برسے نہ برسے

کہ صحرا کی طرح ترسے ہوئے ہیں

بہت مشکل ہے کچھ کہنا یقیں سے

چمکتے ہیں کہ تارے کانپتے ہیں

Wednesday, 30 September 2020

کر ہی گئے تھے پیاس کا جنگل عبور ہم

 کر ہی گئے تھے پیاس کا جنگل عبور ہم

بکھرے کنارِ آب سے تھوڑی ہی دور ہم

پھر یوں ہوا کہ خود ہی اندھیروں میں کھو گئے

اک عمر بانٹتے رہے لوگوں میں نور ہم

منہ زور آندھیوں کو شکایت یہی تو ہے

دیکھیں نہ اشتیاق سے پیڑوں پہ بُور ہم

Tuesday, 29 September 2020

ہر چند بے نوا ہے کورے گھڑے کا پانی

 ہر چند بے نوا ہے کورے گھڑے کا پانی

دیوان میر کا ہے، کورے گھڑے کا پانی

اپلوں کی آگ اب تک ہاتھوں سے جھانکتی ہے

آنکھوں میں جاگتا ہے کورے گھڑے کا پانی

جب مانگتے ہیں سارے انگور کے شرارے

اپنی یہی صدا ہے، کورے گھڑے کا پانی

Tuesday, 11 April 2017

ہوائیں تیز ہیں بجھتا دیا ہے

ہوائیں تیز ہیں، بجھتا دِیا ہے
تمہارا نام پھر دل نے لیا ہے
ابھی کہتا ہوں میں تازہ غزل بھی
ابھی تو زہر کا ساغر پیا ہے
تبسم، ۔۔۔ یہ غریبانہ تبسم
فقط رودادِ غم کا حاشیہ ہے

دل سلگنے لگا دعا بن کر

دل سلگنے لگا دعا بن کر
پھر وہ گزرا، مگر ہوا بن کر
مضمحل تھے مِرے خیالوں میں
لفظ مر ہی گئے صدا بن کر
خود فریبی سی خود فریبی ہے
باہر آنا بہت بھلا بن کر

دل و نگاہ کے سب رابطے ہی توڑ گیا

دل و نگاہ کے سب رابطے ہی توڑ گیا
وہ میرے ہوش کو دیوانگی سے جوڑ گیا
ذرا سی بات ہے لیکن ذرا نہیں کھلتی
کبھی نہ ساتھ رہا جو، کبھی کا چھوڑ گیا
ہم اپنے کھیت کے ٹیلے رفو بھی کر لیتے
مگر وہ شخص تو دریا کا رخ ہی موڑ گیا

خوامخواہ کا مشیر مر جائے

خوامخواہ کا مشیر مر جائے
کاش میرا ضمیر مر جائے
سازشی ہے، سکون دشمن ہے
آرزو کا سفیر مر جائے
قتلِ احساس یاد آتا ہے
جب بھی کوئی فقیر مر جائے

Wednesday, 28 December 2016

صرف میرے لئے نہیں رہنا

صرف میرے لیے نہیں رہنا
تم مِرے بعد بھی حسیں رہنا
پیڑ کی طرح جس جگہ پھوٹا
عمر بھر ہے مجھے وہیں رہنا
مشغلہ ہے شریف لوگوں کا
صورتِ مار آستیں رہنا

بکھرے بکھرے بال اور صورت کھوئی کھوئی

بکھرے بکھرے بال اور صورت کھوئی کھوئی
من گھائل کرتی ہیں آنکھیں روئی روئی
ملبے کے نیچے سے نکلا ماں کا لاشہ
اور ماں کی گودی میں بچی سوئی سوئی
سرد ہوائیں شہروں شہروں چیخیں لائیں
مرہم مرہم، خیمہ خیمہ، لوئی لوئی