ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/*ہائیکو/تروینی/ترائلے
دُنیا
قطرۂ آب آب میں خرم
ذرۂ خاک خاک میں رقصاں
آدمی اپنے شہر میں تنہا
اسلم کولسری
ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/*ہائیکو/تروینی/ترائلے
دُنیا
قطرۂ آب آب میں خرم
ذرۂ خاک خاک میں رقصاں
آدمی اپنے شہر میں تنہا
اسلم کولسری
ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/*ہائیکو/تروینی/ترائلے
کیا گئے تم
کیا گئے تم کہ پھر نہیں گُزرا
میرے ویران گھر کے اُوپر سے
قافلہ دُودھیا چراغوں کا
اسلم کولسری
ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/*ہائیکو/تروینی/ترائلے
تو کیا جانے
ڈھل گئی رات پھر دسمبر کی
شیلف میں سو گئیں کتابیں تک
ایک تیرا خیال روشن ہے
اسلم کولسری
ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/*ہائیکو/تروینی/ترائلے
نوحہ
بنسری توڑ دی گڈرئیے نے
اور چُپکے سے شہر میں جا کر
کارخانے میں نوکری کر لی
اسلم کولسری
ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے
شہر نے پھر سے ایک گاؤں پر
ایک کالی کمند پھینکی ہے
لوگ پکی سڑک کہتے ہیں
اسلم کولسری
خیالوں ہی خیالوں میں نئی دنیا بساتا ہوں
مٹا کر نقشِ فرسودہ، نئے پیکر بناتا ہوں
محبت ہو تعلق ہو، کہ بس رسمی تعارف ہو
جو مجھ کو بھول جاتا ہے، میں اس کو بھول جاتا ہوں
بہت اچھی گزرتی ہے، جو ہمدم آ کے ملتے ہیں
کبھی میں دل کی سنتا ہوں، کبھی اپنی سناتا ہوں
دیارِ ہجر میں خود کو تو اکثر بھُول جاتا ہوں
تجھے بھی میں تِری یادوں میں کھو کر بھول جاتا ہوں
عجب دن تھے کہ برسوں ضرب خوشبو یاد رہتی تھی
عجب دن ہیں کہ فوراً زخم خنجر بھول جاتا ہوں
گزر جاتا ہوں گھر کے سامنے سے بے خیالی میں
کبھی دفتر کے دروازے پہ دفتر بھول جاتا ہوں
دل دریا
صلح کے زمانے میں
مجھ کو ایسا لگتا ہے
وہ اگر بچھڑ جائے
صرف اتنا دکھ ہو گا
جتنا آنکھ کھلنے پر
خواب ٹوٹ جانے کا
زخم سہے، مزدوری کی
سانس کہانی پوری کی
جذبے کی ہر کونپل کو
آگ لگی مجبوری کی
چپ آیا، چپ لوٹ گیا
گویا بات ضروری کی
جب دل ہی نہیں باقی، وہ آتشِ پارا سا
کیوں رقص میں رہتا ہے پلکوں پہ شرارا سا
وہ موج ہمیں لے کر، گرداب میں جا نکلی
جس موج میں روشن تھا سرسبز کنارا سا
اک بام پہ، شام ڈھلے، رنگین چراغ جلے
کچھ دور اک پیڑ تلے، راگی تھکا ہارا سا
وقت نے ایسی کروٹ لی ہے ڈر لگتا ہے
سوہنا چاند بکھر نہیں سکتا، پر لگتا ہے
آوارہ تنکے کی صورت عمر گزاری
بے گھر ہوں اور چپہ چپہ گھر لگتا ہے
مغرب کی زریں آغوش میں گرتا سورج
تیرے بام سے جانے کا منظر لگتا ہے
منڈیروں پر دِیے سے جل اٹھے ہیں
اندھیروں میں، چلو ہم ڈوبتے ہیں
برابر ہے گھٹا برسے نہ برسے
کہ صحرا کی طرح ترسے ہوئے ہیں
بہت مشکل ہے کچھ کہنا یقیں سے
چمکتے ہیں کہ تارے کانپتے ہیں
کر ہی گئے تھے پیاس کا جنگل عبور ہم
بکھرے کنارِ آب سے تھوڑی ہی دور ہم
پھر یوں ہوا کہ خود ہی اندھیروں میں کھو گئے
اک عمر بانٹتے رہے لوگوں میں نور ہم
منہ زور آندھیوں کو شکایت یہی تو ہے
دیکھیں نہ اشتیاق سے پیڑوں پہ بُور ہم
ہر چند بے نوا ہے کورے گھڑے کا پانی
دیوان میر کا ہے، کورے گھڑے کا پانی
اپلوں کی آگ اب تک ہاتھوں سے جھانکتی ہے
آنکھوں میں جاگتا ہے کورے گھڑے کا پانی
جب مانگتے ہیں سارے انگور کے شرارے
اپنی یہی صدا ہے، کورے گھڑے کا پانی