Showing posts with label معاذ صدیقی. Show all posts
Showing posts with label معاذ صدیقی. Show all posts

Thursday, 4 April 2024

اب کے برس بھی نکلا چاند

 اب کے برس بھی نکلا چاند

لیکن تھا وہ سُونا چاند

برسوں اِدھر اُدھر بھٹک کر

بھول گیا اپنا رستہ چاند

ایک مانگو تو دو ملتے ہیں

ہو گیا کتنا سستا چاند

Wednesday, 6 March 2024

برسوں سے ہم سنتے تھے کہ عید خوشی کو کہتے ہیں

 وطن سے دور کی عید


برسوں سے ہم سنتے تھے

کہ عید خُوشی کو کہتے ہیں

وہ لوگ بھی کیا خُوش ہوتے ہیں

جو دُور وطن سے رہتے ہیں

وہ شہر نہیں، جذبات نہیں

وہ دوست نہیں، وہ سات نہیں

Monday, 29 January 2024

میں نے پوچھا زندگی سے تو کیوں اس قدر کٹھن ہے

 سوال و جواب

سوال

میں نے پوچھا زندگی سے تُو کیوں اس قدر کٹھن ہے

کہ جس میں ہیں ہر سُو کانٹے کیوں ایسا اک چمن ہے

کہ جو آگ سب جلا دے، وہی تیرا پیرہن ہے

مگر پھر بھی سب کو پیاری تجھے چاہے دُنیا ساری

جس سے بچ سکا نہ کوئی تیری ضرب ایسی کاری

Friday, 23 April 2021

میں شعر غزل کے کیسے لکھوں اور سب کو سناؤں کس کے لیے

 میں شعر غزل کے کیسے لکھوں، اور سب کو سناؤں کس کے لیے

وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا، نئی بات بناؤں کس کے لیے

وہ جب تک اپنے شہر میں تھا، ہم اس سے ہی دُکھ کہہ لیتے تھے

اب راز کی باتیں کس سے کروں، اور دل تڑپاؤں کس کے لیے

اس شخص کی خاطر اورں کی، ہر بات گوارا کرتے تھے

ایک بات غلط اب سُن کر بھی، نہ بُرا مناؤں کس کے لیے

Thursday, 22 April 2021

ہم اس کو نہ بھول سکے گو اب ہیں وہ جذبات نہیں

 ہم اس کو نہ بھول سکے، گو اب ہیں وہ جذبات نہیں

کوئی دیوانوں سے بات کرے، کوئی پوچھے یہ دل والوں سے

کیوں جاگتی آنکھوں سوتے ہیں، کیوں سوتے ساری رات نہیں

جس شخص کی خاطر دکھ جھیلے، اس نے ہی ہمیں بدنام کیا

نہ اپنے لب پر شکوہ ہے، اور آنکھوں میں برسات نہیں

جب باغ کو خون سے سینچا ہے، اور کانٹوں کو اپنایا ہے