اب کے برس بھی نکلا چاند
لیکن تھا وہ سُونا چاند
برسوں اِدھر اُدھر بھٹک کر
بھول گیا اپنا رستہ چاند
ایک مانگو تو دو ملتے ہیں
ہو گیا کتنا سستا چاند
اب کے برس بھی نکلا چاند
لیکن تھا وہ سُونا چاند
برسوں اِدھر اُدھر بھٹک کر
بھول گیا اپنا رستہ چاند
ایک مانگو تو دو ملتے ہیں
ہو گیا کتنا سستا چاند
وطن سے دور کی عید
برسوں سے ہم سنتے تھے
کہ عید خُوشی کو کہتے ہیں
وہ لوگ بھی کیا خُوش ہوتے ہیں
جو دُور وطن سے رہتے ہیں
وہ شہر نہیں، جذبات نہیں
وہ دوست نہیں، وہ سات نہیں
سوال و جواب
سوال
میں نے پوچھا زندگی سے تُو کیوں اس قدر کٹھن ہے
کہ جس میں ہیں ہر سُو کانٹے کیوں ایسا اک چمن ہے
کہ جو آگ سب جلا دے، وہی تیرا پیرہن ہے
مگر پھر بھی سب کو پیاری تجھے چاہے دُنیا ساری
جس سے بچ سکا نہ کوئی تیری ضرب ایسی کاری
میں شعر غزل کے کیسے لکھوں، اور سب کو سناؤں کس کے لیے
وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا، نئی بات بناؤں کس کے لیے
وہ جب تک اپنے شہر میں تھا، ہم اس سے ہی دُکھ کہہ لیتے تھے
اب راز کی باتیں کس سے کروں، اور دل تڑپاؤں کس کے لیے
اس شخص کی خاطر اورں کی، ہر بات گوارا کرتے تھے
ایک بات غلط اب سُن کر بھی، نہ بُرا مناؤں کس کے لیے
ہم اس کو نہ بھول سکے، گو اب ہیں وہ جذبات نہیں
کوئی دیوانوں سے بات کرے، کوئی پوچھے یہ دل والوں سے
کیوں جاگتی آنکھوں سوتے ہیں، کیوں سوتے ساری رات نہیں
جس شخص کی خاطر دکھ جھیلے، اس نے ہی ہمیں بدنام کیا
نہ اپنے لب پر شکوہ ہے، اور آنکھوں میں برسات نہیں
جب باغ کو خون سے سینچا ہے، اور کانٹوں کو اپنایا ہے