ہم اس کو نہ بھول سکے، گو اب ہیں وہ جذبات نہیں
کوئی دیوانوں سے بات کرے، کوئی پوچھے یہ دل والوں سے
کیوں جاگتی آنکھوں سوتے ہیں، کیوں سوتے ساری رات نہیں
جس شخص کی خاطر دکھ جھیلے، اس نے ہی ہمیں بدنام کیا
نہ اپنے لب پر شکوہ ہے، اور آنکھوں میں برسات نہیں
جب باغ کو خون سے سینچا ہے، اور کانٹوں کو اپنایا ہے
پھولوں میں بھی اپنا حصہ ہے، ہم حق لیں گے، خیرات نہیں
جب چاہا اس کو ٹُھکرایا، جب چاہا اس کو توڑ دیا
ظالم کچھ تو سوچ ذرا، یہ دل ہے کوئی سوغات نہیں
ہم نے تو عشق کی بازی میں، جو کچھ تھا سب ہی وار دیا
”گر جیت گئے تو کیا کہنا، ہارے بھی تو بازی مات نہیں“
معاذ صدیقی
No comments:
Post a Comment