Showing posts with label تجمل عباس. Show all posts
Showing posts with label تجمل عباس. Show all posts

Sunday, 27 February 2022

ٹھٹھرتی شب کے زینے میں

 گلدان


ٹھٹھرتی شب کے زینے میں

دسمبر کے مہینے میں

اچانک تھرتھراہٹ فون کی مجھ کو سنائی دی

وہ پہلی بار دھڑکن قلب کی بڑھتی دکھائی دی

مِرے چہرے پہ زردی جسم پر تھی کپکپی طاری

Friday, 11 February 2022

تھکے ہیں روز کے اس سلسلہ اسلام سازی سے

 تھکے ہیں روز کے اس سلسلۂ اسلام سازی سے

ہمیں اب خوف آتا ہے یہاں فتنہ درازی سے

جسے خانۂ خدا میں بھی عبادت پر تکبر ہے

تو وہ زاہد برا ہے ایک نادم بے نمازی سے

فقط مسجد میں جانے سے خدا ہرگز نہیں ملتا

خدا راضی تو ہوتا ہے مگر بندہ نوازی سے

Monday, 31 January 2022

وہ جھاڑیوں کے بیچ کنول ڈھونڈتا رہا

وہ جھاڑیوں کے بیچ کنول ڈھونڈتا رہا

کیکر کے جو درخت سے پھل ڈھونڈتا رہا

ناقد بنا ہوا ہے جو چربہ کی غرض سے

احمد فرازکی وہ غزل ڈھونڈتا رہا

خدمت نہ کر سکا جو کبھی والدین کی

کاہے کو پھر وہ ان کا بدل ڈھونڈتا رہا

Monday, 10 January 2022

حقیقت میں ہے تاریکی مگر سپنے سہانے ہیں

حقیقت میں ہے تاریکی، مگر سپنے سہانے ہیں

مِری سوچوں کے محور میں سبھی جھوٹے فسانے ہیں

تجھے افسوس کاہے کا، یہاں فرقوں کے بڑھنے پر

ابھی تو مولبی نے اور کئی فرقے بنانے ہیں

تِری بارانِ رحمت کی طلب بھی ہے ہمیں یا رب

مگر خطرہ بھی لاحق ہے کہ ٹوٹے آشیانے ہیں

Sunday, 9 January 2022

رنگ الفت کے اب تو نرالے ہوئے

رنگ الفت کے اب تو نرالے ہوئے

بے سبب ہم سبب تیرا پالے ہوئے

تیری فرقت میں سکریٹ کو اپنا لیا

دل بھی جلتا رہا، ہونٹ کالے ہوئے

ایک وعدہ بھی تم سے وفا کب ہوا

میں تِری ذات میں خود کو ڈھالے ہوئے

Saturday, 8 January 2022

کاہے کو لوگ مجھ سے وفاداریاں کریں

 کاہے کو لوگ مجھ سے وفاداریاں کریں

جو بھی کریں وہ صرف اداکاریاں کریں

جن پہ تھا اعتماد، وہی آستیں کے سانپ

اپنا کہیں مجھے، اور ریاکاریاں کریں

جو صاحبان میری اجل مانگتے رہے

مرنے پہ میرے کیوں وہ عزاداریاں کریں