گلدان
ٹھٹھرتی شب کے زینے میں
دسمبر کے مہینے میں
اچانک تھرتھراہٹ فون کی مجھ کو سنائی دی
وہ پہلی بار دھڑکن قلب کی بڑھتی دکھائی دی
مِرے چہرے پہ زردی جسم پر تھی کپکپی طاری
گلدان
ٹھٹھرتی شب کے زینے میں
دسمبر کے مہینے میں
اچانک تھرتھراہٹ فون کی مجھ کو سنائی دی
وہ پہلی بار دھڑکن قلب کی بڑھتی دکھائی دی
مِرے چہرے پہ زردی جسم پر تھی کپکپی طاری
تھکے ہیں روز کے اس سلسلۂ اسلام سازی سے
ہمیں اب خوف آتا ہے یہاں فتنہ درازی سے
جسے خانۂ خدا میں بھی عبادت پر تکبر ہے
تو وہ زاہد برا ہے ایک نادم بے نمازی سے
فقط مسجد میں جانے سے خدا ہرگز نہیں ملتا
خدا راضی تو ہوتا ہے مگر بندہ نوازی سے
وہ جھاڑیوں کے بیچ کنول ڈھونڈتا رہا
کیکر کے جو درخت سے پھل ڈھونڈتا رہا
ناقد بنا ہوا ہے جو چربہ کی غرض سے
احمد فرازکی وہ غزل ڈھونڈتا رہا
خدمت نہ کر سکا جو کبھی والدین کی
کاہے کو پھر وہ ان کا بدل ڈھونڈتا رہا
حقیقت میں ہے تاریکی، مگر سپنے سہانے ہیں
مِری سوچوں کے محور میں سبھی جھوٹے فسانے ہیں
تجھے افسوس کاہے کا، یہاں فرقوں کے بڑھنے پر
ابھی تو مولبی نے اور کئی فرقے بنانے ہیں
تِری بارانِ رحمت کی طلب بھی ہے ہمیں یا رب
مگر خطرہ بھی لاحق ہے کہ ٹوٹے آشیانے ہیں
رنگ الفت کے اب تو نرالے ہوئے
بے سبب ہم سبب تیرا پالے ہوئے
تیری فرقت میں سکریٹ کو اپنا لیا
دل بھی جلتا رہا، ہونٹ کالے ہوئے
ایک وعدہ بھی تم سے وفا کب ہوا
میں تِری ذات میں خود کو ڈھالے ہوئے
کاہے کو لوگ مجھ سے وفاداریاں کریں
جو بھی کریں وہ صرف اداکاریاں کریں
جن پہ تھا اعتماد، وہی آستیں کے سانپ
اپنا کہیں مجھے، اور ریاکاریاں کریں
جو صاحبان میری اجل مانگتے رہے
مرنے پہ میرے کیوں وہ عزاداریاں کریں