کاہے کو لوگ مجھ سے وفاداریاں کریں
جو بھی کریں وہ صرف اداکاریاں کریں
جن پہ تھا اعتماد، وہی آستیں کے سانپ
اپنا کہیں مجھے، اور ریاکاریاں کریں
جو صاحبان میری اجل مانگتے رہے
مرنے پہ میرے کیوں وہ عزاداریاں کریں
چوکھٹ پہ بیٹھے سگ کو کھلانا ثواب ہے
ان کو کھلائیں کاہے، جو غداریاں کریں
ہم دیکھنا جو چاہیں کبھی خود کو غور سے
ہم سے تو آئینے بھی جفاکاریاں کریں
سایہ ملا نہ جن سے کبھی بوڑھے باپ کو
اب قبر پر ہیں کیوں، وہ شجرکاریاں کریں
جن کو پکڑ کے انگلی سکھائے ہیں داؤ پیچ
سیکھیں ہمیں سے، ہم سے ہی فنکاریاں کریں
تجمل عباس جارب
No comments:
Post a Comment